نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اعتراض نمبر ۵۹ : بڑی عمر کے غلام کو چرایا جائے تو بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔

 


اعتراض نمبر ۵۹


لا قطع في سرقة العبد الكبير.


(هدايه يوسفي جلد ٢ ص ٥١٩، باب ما يقطع فيه)


یعنی بڑی عمر کے غلام کو چرایا جائے تو بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔

(درایت محمدی ص ۱۰۱، ہدایت محمدی ص ۱۱)

جواب:


جوناگڑھی نے ہدایہ کی اگلی عبارت چھوڑ دی ہے جس میں ہاتھ نہ کاٹنے کی وجہ لکھی تھی۔


اگلی عبارت کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:


کیونکہ یہ غصب ہے یا دھوکہ۔ اور چھوٹے غلام کی چوری میں قطع ہوگا (یعنی ہاتھ کاٹا جائے گا) کیونکہ (اس میں) سرقہ اپنی پوری تعریف کے ساتھ پایا جاتا ہے۔


(احسن الہدایہ ج ۶، ص ۳۲۵)


اس عبارت کی شرح میں شارح ہدایہ مولانا ثمیر الدین قاسمی حنفی ہاتھ نہ کاٹنے کی تین وجہ لکھتے ہیں:


(۱) کیونکہ وہ دفعیہ کر سکتا ہے اور لوگوں کو کہہ سکتا ہے کہ مجھے چرایا ہے، پھر بھی نہیں کہہ رہا ہے تو گویا کہ غلام جانے پر راضی ہے۔


(۲) اور واویلا کرنے کے باوجود چور نے یرغمال کر رکھا ہے تو یہ چوری نہیں ہے بلکہ غصب ہے، اور غصب کی سزا ہاتھ کاٹنا نہیں ہے بلکہ قتل یا ضربِ شدید ہے۔


(۳) اور چور دھوکہ دے کر غلام کو لے گیا تو یہ دھوکہ ہے، اس کی سزا سخت مار ہے۔


بہرحال ان تینوں صورتوں میں چوری کا ثبوت نہیں ہوا، اس لیے چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔


ہاتھ نہ کاٹنے کا ثبوت حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے، ملاحظہ فرمائیں۔


حدیث:


معروف بن سعید سے مروی ہے کہ افریقہ میں لوگ، لوگوں کے غلاموں کو چرایا کرتے تھے تو حضرت علی بن رباح نے فرمایا کہ ان پر قطعِ ید نہیں ہے۔


یہ حضرت عمر کا زمانہ تھا، وہ (حضرت عمر) ان پر قطعِ ید کو روا نہیں رکھتے تھے بلکہ فرماتے تھے کہ یہ خلابون (نرم اور میٹھی میٹھی گفتگو کر کے فریفتہ کرنے والے) ہیں۔


(مصنف ابن ابی شیبہ بحوالہ اعلاء السنن مترجم ج ۳ ص ۵۹۸)


فائدہ:


یعنی بڑے عقل مند غلام کو چرانا شرعاً سرقہ نہیں بلکہ خداع (دھوکہ) یا غصب ہے اور یہ تعلیل خود حضرت عمر سے مروی ہے، لہٰذا جب شرعی سرقہ نہیں پایا گیا تو حدِ سرقہ بھی لاگو نہیں ہوگی۔ البتہ چھوٹے غلام کو جو اپنا اظہار نہ کر سکتا ہو اور اپنے آپ سے واقف نہ ہو، اس کو چرانے میں حدِ سرقہ ہوگا کیونکہ اس صورت میں سرقہ شرعی متحقق ہوگا اور اسی صورت پر مصنف ابن ابی شیبہ کی وہ دوسری حدیث جس میں آتا ہے:


کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایسا چور لایا گیا جس نے غلام چرایا تھا تو آپ نے اس چور کا ہاتھ کاٹا تھا، محمول ہے۔


(اعلاء السنن مترجم جلد ۳ ص ۵۹۸)


حدیث:


عن عمر بن الخطاب أنه لم ير عليهم القطع، قال: هؤلاء خلابون. قال أصحابنا: معناه في العبد إذا كان عاقلًا، فقد روي عن عمر أنه قطع رجلًا في غلام سرق، أي غلام صغير.


(سنن الكبرى للبيهقي، باب ما جاء فيمن سرق عبدًا صغيرًا من حرز، ج ۸، ص ٤٦٥، حدیث نمبر ۱۷۲۳۰، بحوالہ اثمار الہدایہ ج ۷، ص ٢٥)


اس اثر سے بھی معلوم ہوا کہ بڑے غلام کے چرانے پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔


حدیث:


عن سفيان يقول: ما سرق من صغير مملوك ففيه القطع، ومن سرق من صغير حرًا أو مملوكًا بلغ فلا قطع عليه.


(مصنف عبدالرزاق، باب الرجل يسبع الحر، ج ۹، ص ۴۸۹، حدیث نمبر ۱۹۰۷۵)


اس قولِ تابعی سے ثابت ہوا کہ چھوٹا غلام ہو تو ہاتھ کاٹا جائے گا، چھوٹا یا بڑا آزاد ہو تو ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، اور بڑا مملوک (غلام) ہو تو تب بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ان دلائل سے ثابت ہوا کہ اس جرم کی سزا حد یعنی ہاتھ کاٹنا نہیں ہے۔ ایسے جرم پر جو سزا ہے وہ تعزیر ہے۔ اگر فریق مخالف اس خاص واقعہ میں حد کا قائل ہے تو وہ قرآن و سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت کرے، ہم مان لیں گے کیونکہ ہم قرآن و سنت کے خلاف کسی بات نہیں مانتے۔

-----------------------------------------------------------------------------------------------------

یہ اقتباس ہم نے پیر جی مشتاق علی شاہ صاحب کی کتاب
"ہدایہ کے 100 مسائل کی تحقیق"
سے لیا گیا ہے۔ مکمل PDF کتاب دفاعِ احناف لائبریری میں موجود ہے۔

پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز

تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...