اعتراض نمبر ۶۰:
لا في سرقة كلب ولا فهد.
(ہدایہ یوسفی جلد ۲ ص ۵۱۹ باب ما يقطع فيه)
یعنی کتے کے اور چیتے کے چور پر ہاتھ کاٹنا نہیں۔
جواب:
(درایت محمدی ص ۱۰۱، ہدایت محمدی ص ۱۱)
ہدایہ میں آگے اس کی وجہ بھی لکھی تھی جو جوناگڑھی نے نقل نہیں کی۔ اس عبارت کے آگے ہدایہ میں لکھا ہے: اس لیے کہ ان دونوں (کتا اور چیتا) کو قتل کرنا مباح ہے، اس کو پالنے میں رغبت بھی نہیں ہوتی اور اس لیے کہ اس کی مالیت ہونے میں علماء کا اختلاف ہے، اس لیے مال ہونے میں اس کا شبہ ہو گیا۔ اس لیے اس کو چرانے سے ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ مولانا شمیر الدین قاسمی حنفی اس کی شرح میں لکھتے ہیں:
تشریح:
کتا ناپاک جانور ہے، اسی طرح چیتا ناپاک جانور ہے، اس لیے وہ نفیس چیز نہیں رہی۔ اس لیے اس کے چرانے میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ دوسری بات یہ ہے کہ کتا اور چیتا مال بھی ہیں یا نہیں، اس بارے میں علماء کا اختلاف ہے، اس لیے اس کے مال ہونے میں ہی شبہ ہو گیا، اس لیے اس کے چرانے سے ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
اس عبارت سے معلوم ہوا کہ ہاتھ نہ کاٹنے کی وجہ دو چیزیں بنیں:
نمبر ۱: کہ یہ دونوں ناپاک اور حرام ہیں اور حقیر چیزوں میں شمار ہوتے ہیں۔
نمبر ۲: اس میں شبہ پیدا ہو گیا کہ یہ شرعی طور پر مال ہیں یا نہیں۔ ان دونوں کا حکم حدیث میں موجود ہے۔
حدیث:
پہلی حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں حقیر چیز پر ہاتھ نہیں کاٹا جاتا تھا۔
(سنن الکبریٰ بیہقی حدیث نمبر ۱۷۶۲۷)
حدیث:
دوسری حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما جس میں آتا ہے:
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: شبہات (پڑ جانے) پر حدوں کو ٹال دو۔
(مسند امام اعظم مترجم مولانا سعد حسن ص ۲۸۲، باب درء الحدود)
فقہاء کرام نے ان احادیث کے پیش نظر یہ کہا ہے کہ ہر وہ چیز جو شریعت کی نظر میں حقیر ہو اس کی چوری پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، اور جس چیز میں شبہ پیدا ہو جائے اس میں بھی حد ساقط ہو جائے گی۔ باقی ان جرموں پر حد کے علاوہ شریعت میں جو سزا ہوگی وہ دی جائے گی۔ اگر کوئی حد کا قائل ہے وہ اس جرم پر حد ثابت کرے۔
----------------------------------------------------------------------------------------------------
پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں