اعتراض نمبر ۵۳
لا يقطع في الأشربة المطربة.
(هدايه يوسفي جلد ٢ ص ٥١٨، باب ما يقطع فيه)
یعنی نشہ والی پینے کی چیزوں کے چرانے سے بھی ہاتھ نہیں کاٹا جاتا۔
(درایت محمدی ص ۱۰۰، ہدایت محمدی ص ۱۱)
جواب:
صاحب ہدایہ نے اس باب کے شروع میں ایک اصول ذکر کیا تھا اور وہ اصول حدیث سے ماخوذ ہے، پھر وہ حدیث بھی نقل کی ہے مگر معترض نے اس کا ذکر نہیں کیا۔ ہم پہلے وہ اصول نقل کرتے ہیں تاکہ بات سمجھنے میں آسانی ہو۔
صاحب ہدایہ فرماتے ہیں: ہر وہ حقیر چیز جو مباح طور پر دار الاسلام میں ملتی ہو جیسے لکڑی، گھاس، بانس، مچھلی، پرندہ، شکاری جانور، ہڑتال، گیرو (سرخی مٹی) اور چونا، ان میں سے کوئی چیز چرانے پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ اس سلسلے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ حدیث اصل ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں حقیر چیز پر قطعِ ید نہیں ہوتا تھا۔
(احسن الہدایہ ج ٦، ص ۳۱۸ کتاب السرقة باب ما يقطع فيه وما لا يقطع)
صاحب ہدایہ نے جس حدیث کا حوالہ دیا ہے وہ حدیث نصب الرایہ فی تخریج احادیث الہدایہ ج ۳ ص ۳۶۰، سنن الکبریٰ بیہقی حدیث نمبر ۱۷۲۶۲، اعلاء السنن مترجم ج ۳، ص ۵۹۵ میں موجود ہے۔
یہ حدیث نقل کرنے کے بعد صاحب ہدایہ بتاتے ہیں کہ حقیر چیزوں میں کون کون سی چیزیں ہیں، پھر ان میں سے چند کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
وہ چیز جس کی جنس اصلاً مباح ہو اور اس میں رغبت نہ ہو وہ حقیر ہے، کیونکہ اس میں دلچسپی کم ہوتی ہے اور طبیعتیں اسے دینے میں بخل نہیں کرتیں اور مالک کی ناگواری نہیں ہے۔ اسی لیے تو نصاب سے کم کی چوری میں قطع (ہاتھ کاٹنا) واجب نہیں ہے، اور اس لیے کہ ان چیزوں میں حفاظت ناقص ہوتی ہے۔ کیا دیکھتا نہیں کہ لکڑیاں دروازوں کے سامنے ڈال دی جاتی ہیں اور گھر میں تعمیری کام کے لیے لے جائی جاتی ہیں نہ کہ احراز کے لیے۔ پرندے اڑ جاتے ہیں اور شکاری جانور بھاگ کھڑے ہوتے ہیں، نیز اگر یہ چیزیں اپنی اصلی ہیئت پر ہوں اور ان میں عوام کی شرکت ہو تو یہ شرکت (اباحت کا) شبہ پیدا کرتی ہے اور شبہ سے حد دفع ہو جاتی ہے۔
اور سمک میں خشک نمکین مچھلی اور تازہ مچھلی دونوں داخل ہیں اور لفظ طیر میں مرغی، بطخ اور کبوتر داخل ہیں، اس دلیل کی وجہ سے جو ہم بیان کر چکے ہیں اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمانِ گرامی کے مطلق ہونے کی وجہ سے کہ پرندوں میں قطعِ ید نہیں ہے۔
(سنن الکبریٰ بیہقی حدیث نمبر ۱۷۲۰۶)
امام ابو یوسف سے مروی ہے کہ ترمٹی، خشک مٹی اور گوبر کے علاوہ ہر چیز میں قطعِ ید ہے، یہی امام شافعی کا بھی قول ہے لیکن ان کے خلاف ہماری بیان کردہ دلیل حجت ہے۔
(احسن الہدایہ ج ۶، ص ۳۱۸، ۳۱۹)
ہم نے ہدایہ کی مکمل عبارت کا ترجمہ نقل کر دیا ہے تاکہ اس باب میں آگے آنے والے مسائل کا حل معلوم ہو جائے۔ اس اصول کے بعد اصل مسئلے کی طرف آتے ہیں۔ جوناگڑھی نے ہدایہ کی جو عبارت نقل کی ہے اس کے آگے لکھا ہے:
کیونکہ چور اس سے لینے میں بہانے کی تاویل کر دے گا اور اس لیے کہ بعض مسکر مشروب مال نہیں ہیں اور کچھ کی مالیت میں اختلاف ہے، لہٰذا عدمِ مالیت کا شبہ پیدا ہو گیا۔
اس مسئلہ کی شرح کرتے ہوئے شارح مفتی عبدالحلیم قاسمی بستوی لکھتے ہیں: کیونکہ چور یہ تاویل کر کے بچ جائے گا کہ میں نے تو گرانے اور بہانے کی نیت سے لی تھی، پینے کے لیے نہیں لی تھی، تو یہ ارادہ ظاہر کرنے پر قاضی اس کی پیٹھ تھپ تھپائے گا (یعنی تعزیر لگائے گا نہ کہ اس کا ہاتھ کاٹے گا)۔ اس سلسلے کی دوسری دلیل یہ ہے کہ کچھ مشروبات مثلاً شراب اور بھنگ وغیرہ تو شرعاً مال ہی نہیں ہیں اور کچھ مال تو ہیں لیکن ان کی مالیت میں اختلاف ہے اور اختلاف کی وجہ سے عدمِ مالیت کا شبہ پیدا ہو گیا اور شبہ دافعِ حد ہے۔
(احسن الہدایہ ج ۱ ص ۱۳۱)
ہمارے نزدیک اس جرم پر حد نہیں، تعزیر ہے۔ حد کے قائل قرآن و سنت سے دلیل پیش کریں، ہم مان لیں گے۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------
پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں