نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اعتراض نمبر ۵۸ : اگر کوئی شخص چھوٹے بچے کو چرا لے جائے اگرچہ وہ زیور بھی پہنے ہوئے ہو، تاہم اس کے ہاتھ نہیں کاٹے جائیں گے۔

 


اعتراض نمبر ۵۸

لا قطع على سارق الصبي الحر وإن كان عليه حلي.

(هدايه يوسفي جلد ٢ ص ٥١٩، باب ما يقطع فيه)

یعنی اگر کوئی شخص چھوٹے بچے کو چرا لے جائے اگرچہ وہ زیور بھی پہنے ہوئے ہو، تاہم اس کے ہاتھ نہیں کاٹے جائیں گے۔

(درایت محمدی ص ۱۰۱، ہدایت محمدی ص ۱۱)


جواب:


ہدایہ میں اس عبارت کے آگے ہاتھ نہ کاٹنے کی وجہ بھی لکھی تھی، وہ معترض نے نہیں بتائی۔ ہم یہاں پر پہلے وہ عبارت نقل کرتے ہیں۔ ہدایہ کی اگلی عبارت کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:


کیونکہ حر (بچہ) مال نہیں ہے اور اس پر جو زیور ہے اس کے تابع ہے۔ اور اس لیے کہ بچہ لینے میں سارق اسے خاموش کرنے یا اسے اس کی مرضعہ (دائی) تک پہنچانے کی تاویل کرے گا۔ امام ابو یوسف فرماتے ہیں کہ اگر اس بچے پر بقدرِ نصاب زیور ہو تو سارق کا ہاتھ کاٹا جائے گا، کیونکہ صرف زیور کے سرقہ سے قطع واجب ہوتا ہے تو دوسری چیز کے ساتھ زیور چرانے میں بھی قطع واجب ہوگا۔


اسی اختلاف پر ہے جب کسی نے چاندی کا ایسا برتن چوری کیا جس میں نبیذ ہو یا ثرید ہو، اور ماقبل والا اختلاف اس بچے کے متعلق ہے جو نہ چلتا ہو نہ بولتا ہو، کیونکہ وہ اپنے ذاتی اختیار میں نہیں ہوتا۔


دیکھو صاحب ہدایہ نے ہاتھ نہ کاٹنے کی وجہ بھی بتا دی اور امام ابو یوسف کا اختلاف بھی بتا دیا۔ ہاتھ نہ کاٹنے کی وجہ یہ بتائی کہ شریعت میں جس مال کی چوری پر حد نافذ ہوتی ہے یہ بچہ مال نہیں ہے، باقی زیور اس کے تابع ہے۔


دوسرا جواب:


اگر اس خاص واقعہ میں قرآن یا سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں حد آئی ہے تو وہ آیت یا حدیث فریقِ مخالف پیش کریں، ہم مان لیں گے، کیونکہ ہم قرآن و سنت کے خلاف کسی کی بات نہیں مانتے۔


تیسرا جواب:


صاحب ہدایہ نے یہاں پر صرف حد کی نفی کی ہے۔ ایسے مجرم پر تعزیر ضروری ہے۔ یہ فعل غلط ہے، گناہ کا کام ہے، ایسے فعل کو کوئی جائز نہیں کہہ سکتا۔

-----------------------------------------------------------------------------------------------------

یہ اقتباس ہم نے پیر جی مشتاق علی شاہ صاحب کی کتاب
"ہدایہ کے 100 مسائل کی تحقیق"
سے لیا گیا ہے۔ مکمل PDF کتاب دفاعِ احناف لائبریری میں موجود ہے۔

پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز

تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...