اعتراض نمبر ۵۴
لا في الطنبور لأنه من المعازف.
(هدايه يوسفي ج ٢ ص ٥١٨، باب ما يقطع فيه)
یعنی طنبورہ وغیرہ باجے گاجے چرانے سے بھی ہاتھ نہیں کٹ سکتا۔
جواب:
(درایت محمدی ص ۱۰۰، ہدایت محمدی ص ۱۱)
ہاتھ نہ کاٹنے کی وجہ یہ ہے کہ طنبورہ (طنبورہ مطلب ہے تان پورہ، موسیقی کا ایک آلہ) اور معازف کا مطلب ہے آلاتِ موسیقی، لہو و لعب کا آلہ ہے اور شرعاً اس کی کوئی مالیت بھی نہیں ہوتی، لہٰذا اس کے سارق کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ کام جائز ہے اور اس طرح کرنے کی اجازت ہے۔ یہاں پر صرف یہ بتایا جا رہا ہے کہ اس مجرم پر چوری کی شرعی حد جو ہاتھ کاٹنا ہے وہ نہیں لگے گی، قاضی اپنی مرضی سے سزا دے گا۔
فریقِ مخالف اگر حد کا قائل ہے تو وہ قرآن و سنت سے ایسے مجرم کے لیے حد ثابت کر دے، ہم مان لیں گے۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------
پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں