نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اعتراض نمبر ۵۶: خانہ کعبہ، مسجدِ حرام کے دروازے اگر کوئی چور چرا لے جائے تو اس کے بھی ہاتھ نہیں کاٹے جائیں گے۔


اعتراض نمبر ۵۶:


لا يقطع في أبواب المسجد الحرام.


(هدايه يوسفي جلد ٢ ص ٥١٨ باب ما يقطع فيه)


یعنی خانہ کعبہ، مسجدِ حرام کے دروازے اگر کوئی چور چرا لے جائے تو اس کے بھی ہاتھ نہیں کاٹے جائیں گے۔


(درایت محمدی ص ۱۰۱، ہدایت محمدی ص ۱۱)


جواب:


اس عبارت کے آگے حد نہ ہونے کی وجہ لکھی ہوئی تھی، وہ معترض نے نقل نہیں کی۔ اس عبارت کے آگے ہے:


کیونکہ احراز معدوم ہے، تو یہ گھر کا دروازہ چرانے کے حکم میں ہو گیا بلکہ اس سے بھی بڑھ گیا، کیونکہ گھر کے دروازے سے گھر میں موجود سامان وغیرہ کی حفاظت کی جاتی ہے لیکن مسجدِ حرام کے دروازے سے مسجد کی اشیاء کی حفاظت نہیں کی جاتی، حتیٰ کہ مسجدِ حرام کا سامان چوری کرنے پر بھی قطع واجب نہیں ہے۔


(احسن الہدایہ ج ۶، ص ۳۲۲)


شرح وقایہ ج ۲ ص ۳۱۹ میں بھی ہاتھ نہ کاٹنے کی وجہ یہی لکھی ہے:


لعدم الإحراز.


یعنی محفوظ نہ ہونے کی وجہ سے، کیونکہ دروازہ کا کوئی نگہبان نہیں، اس لیے محفوظ نہیں رہا اور شبہ کی وجہ سے حد ساقط ہو گئی۔


ہدایہ کی عبارت کی وضاحت ہم نے کر دی ہے جس سے اعتراض ختم ہو جاتا ہے۔ مگر عوام کو سمجھانے کے لیے مسئلہ کی کچھ تفصیل کر دیتے ہیں تاکہ کوئی اشکال باقی نہ رہے۔


صاحبِ درایت محمدی کو پہلے چاہیے تھا کہ قرآن اور سنت سے چوری کی تعریف کرتے تاکہ عوام کو پتہ چلے کہ چوری کسے کہتے ہیں اور شرعی طور پر چور کون ہوتا ہے۔ پھر یہ بتانا چاہیے تھا کہ قرآن و سنت میں کتنے مال کی چوری پر ہاتھ کاٹا جاتا ہے اور اس مسئلہ میں احادیث میں اختلاف ہے یا نہیں۔ اس کے بعد یہ بھی واضح کرتے کہ آیا ہر صورت میں اس پر حد (یعنی ہاتھ کاٹنا ہی ضروری ہے) نافذ ہوتی ہے اور کوئی دوسری سزا شریعت میں نہیں ہے؟ اور اگر صاحبِ مال قاضی کی عدالت میں جانے سے پہلے پہلے اس کو معاف بھی کر دے پھر بھی اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا؟


صاحبِ درایتِ محمدی نے ان میں سے کسی بات کی بھی وضاحت نہیں کی اور عوام کو دھوکے میں رکھا ہے۔ ہم نے اس مسئلہ کی کچھ وضاحت آفتابِ محمدی بجواب شمع محمدی میں کر دی ہے، مختصراً یہاں پر بھی نقل کرتے ہیں۔


چوری کی تعریف میں اعتبار عوام کے خیال کا نہیں ہوتا اور نہ ہی کسی پنچایت کے فیصلہ کا، بلکہ قرآن و سنت کی روشنی میں فقہاء نے جو تعریف کی ہے اس کا ہوتا ہے۔


چوری کی تعریف:


علامہ شوکانی غیر مقلد نے صاحبِ قاموس سے نقل کیا ہے۔


السرقة والاستراق المجيء مستترا لأخذ مال غيره من حرز، فهذا إمام من أئمة اللغة جعل الحرز جزءًا من مفهوم السرقة، وكذا قال ابن الخطيب في تيسير البيان۔


یعنی محفوظ جگہ سے کسی دوسرے کے مال کو چھپا کر لے جانے کو سرقہ کہتے ہیں، پس یہ (یعنی صاحب قاموس) لغت کے اماموں میں سے امام ہے اور اس نے حرز یعنی محفوظ جگہ کو چوری کے مفہوم میں جزء قرار دیا ہے۔ اور اسی طرح ابن الخطیب نے تیسیر البیان میں کہا ہے۔


(نیل الاوطار ج ۷ ص ۱۳۷)


(۲) صاحب ہدایہ نے بھی ہدایہ شریف میں لکھا ہے: اور مسجد حرام کے دروازوں کو چرانے میں بھی قطع ید نہیں ہوگا کیونکہ احراز معدوم ہے۔ آسان لفظوں میں سارق اسے کہتے ہیں جو کسی کا محفوظ مال محفوظ طریقہ سے لے لے اور وہ مال دس درہم تک کی مالیت کا ہو اور لینے والا عاقل بالغ ہو تو اس کو سارق کہتے ہیں۔


علامہ وحید الزمان غیر مقلد لکھتے ہیں:


من سرق مكلفًا مختارًا من حرز ربع دينار أو ثلاثة دراهم فصاعدًا.


(كنوز الحقائق ص ۱۰۷، نزل الابرار ج ۲ ص ۲۰۴)


جو شخص مکلف (عاقل بالغ) مختار اگر دینار کے چوتھائی یا تین درہم یا اس سے زیادہ مقدار کی چوری کرے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔


علامہ وحید الزمان نے سارق کے لیے جو شرائط ذکر کی ہیں وہ یہ ہیں:


(۱) وہ عاقل بالغ ہو۔


(۲) مختار ہو۔


(۳) اور جو مال اس نے چوری کیا ہے اس کی مالیت کم از کم تین درہم ہو۔


نوٹ:


تین درہم یا دس درہم کی بحث الگ ہے۔ امام ابو حنیفہ کے نزدیک دس درہم والی احادیث زیادہ قابل عمل ہیں۔


علامہ وحید الزمان دوسرے مقام پر لکھتے ہیں:


ومن سرق مالًا من مسجد أو مدرسة أو بيت موقوف فإن لم يكن فيها حافظ لم يقطع.


(نزل الابرار ج ۲ ص ۳۰۶)


اور جس نے مسجد یا مدرسہ یا کسی وقف کی گئی عمارت سے چوری کی، پس اگر اس میں محافظ نہ ہو تو چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔


اور اپنی دوسری کتاب كنوز الحقائق ص ۱۰۸ میں یوں بیان کیا ہے کہ اگر ان مقامات میں محافظ ہو تو پھر ہاتھ کاٹا جائے گا۔


یہاں پر علامہ صاحب نے حرز کی قید بھی لگائی ہے۔


اور یہ مسئلہ صرف حنفیوں کا ہی نہیں، دوسرے ائمہ اور فقہاء کا بھی ہے۔


علامہ ابن الہمام حنفی فرماتے ہیں:


اگر کسی نے کعبہ کا پردہ چوری کیا تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا اور یہ قول امام مالک، امام احمد کا ہے اور صحیح قول کے مطابق امام شافعی کا قول بھی یہی ہے۔


(فتح القدير ج ۴ ص ۳۲۰)


علامہ ابن قدامہ حنبلی نے امام احمد کا یہی نظریہ المغنی ج ۱۰ ص ۲۸۶ میں نقل کیا ہے۔ جب ہاتھ کاٹنے اور شرعی سرقہ ثابت کرنے کے لیے محفوظ جگہ سے مال چھپا کر نکالنا غیر مقلدین کے نزدیک بھی شرط ہے تو پھر فقہاء احناف کا کون سا جرم ہے؟ اور محفوظ جگہ وہ ہوتی ہے جہاں پر کسی کا آنا جانا نہ ہو، اور مسجد اور بالخصوص مسجد الحرام، بیت اللہ شریف میں آنے سے تو کسی کو نہیں روکا جا سکتا، اس لیے یہ جگہ محرز نہیں۔ اگر وہاں سے کوئی مال لے جائے تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، مگر اس کو تعزیراً ضروری سزا لگائی جائے گی۔


تاکہ اس کے جرم کی سزا اس کو مل جائے اور دوسروں کے لیے عبرت ہو۔


اگر غیر مقلدین کے پاس قرآن و سنت کی کوئی ایسی دلیل ہو جس میں خاص یہ مسئلہ ہو کہ مسجد حرام کے دروازے چوری کرنے والے پر حد لگانا ہی ضروری ہے تو وہ ضرور پیش کریں، جوناگڑھی نے تو پیش نہیں کی۔

-----------------------------------------------------------------------------------------------------

یہ اقتباس ہم نے پیر جی مشتاق علی شاہ صاحب کی کتاب
"ہدایہ کے 100 مسائل کی تحقیق"
سے لیا گیا ہے۔ مکمل PDF کتاب دفاعِ احناف لائبریری میں موجود ہے۔

پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز

تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...