اعتراض نمبر ۵۲ : ان چیزوں کے چرانے میں بھی ہاتھ نہیں کاٹے جائیں گے جو جلد خراب ہو جاتی ہیں جیسے دودھ، گوشت اور تر میوے۔
اعتراض نمبر ۵۲
لا قطع فيما يتسارع إليه الفساد كاللبن واللحم والفواكه الرطبة.
(هدايه يوسفي جلد ٢ ص ٥١٨، باب ما يقطع فيه)
یعنی ان چیزوں کے چرانے میں بھی ہاتھ نہیں کاٹے جائیں گے جو جلد خراب ہو جاتی ہیں جیسے دودھ، گوشت اور تر میوے۔
(ہدایت محمدی ص ۱۱، درایت محمدی ص ۱۰۰)
جواب:
ان چیزوں کی چوری پر اس لیے ہاتھ نہیں کاٹے جائیں گے کہ حدیث میں اس سے منع ہے۔
حدیث:
حسن بصری سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں کھانے کی چوری کرنے میں ہاتھ نہ کاٹوں گا۔
(مراسیل ابوداؤد، نصب الرایہ فی تخریج احادیث الہدایہ ج ۲ ص ۱۰۴، بحوالہ اعلاء السنن مترجم ج ۳ ص ۵۹۶)
حدیث:
حسن بصری سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس نے کھانا چوری کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ نہ کاٹا۔ مصنف ابن ابی شیبہ اور مصنف عبدالرزاق کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ سفیان ثوری فرماتے ہیں کہ اس سے وہ کھانا مراد ہے جو اسی دن خراب ہو جائے جیسے ثرید اور گوشت وغیرہ۔
(اعلاء السنن مترجم ج ۳ ص ۵۹۷)
نوٹ: گندم کی چوری میں (احناف کے نزدیک) بالاجماع ہاتھ کاٹا جائے گا۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------
پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں