اعتراض نمبر ۳۷ : اگر کسی کے پاس دوسرے کی لونڈی گروی ہو اور وہ اس سے بدکاری کرے تو اس پر بھی کوئی حد نہیں۔
اعتراض نمبر ۳۷
والجارية المرهونة في حق المرتهن. (هدايه يوسفي جلد ٢ ص ٤٩٢ باب الوطء)
یعنی اگر کسی کے پاس دوسرے کی لونڈی گروی ہو اور وہ اس سے بدکاری کرے تو اس پر بھی کوئی حد نہیں۔ (خواہ وہ کہے کہ میں اسے حلال خیال کرتا تھا، خواہ کہے کہ میں اسے حرام جانتا تھا۔ ملاحظہ ہو اس سے اگلا صفحہ) (درایت محمدی، ص ۹۷، ہدایت محمدی ص ۹)
جواب:
اگر حرام جانتا تھا تو صحیح اور مختار یہ ہے کہ اس پر حد واجب ہوگی۔
بحر الرائق کے ص ۱۳ ج ۵ میں ہے:
والخلاف فيما إذا علم الحرمة والأصح وجوبه.
اگر حرام جانتا تھا تو اصح یہی ہے کہ حد واجب ہوگی۔
اور اگر حلال گمان کرتا تھا تو اس پر حد نہ ہوگی، اس لیے کہ مرہونہ پر مرتهن کی ملکیتِ تصرف ہونا مرہونہ سے جماع کی حلت کا موہم ہے۔ كذا في الطحطاوي۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------
پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں