امام ابو حنیفہؒ کی حکایتِ چاندی کا مدہن: ایک تحقیقی و الزامی جائزہ
قَالَ أَبُو يَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو عبد الله مُحَمَّدُ بْنُ حِزَامٍ الْفَقِيهُ قَالَ نَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ قَالَ نَا شَدَّادُ بْنُ حَكِيمٍ قَالَ نَا زُفَرُ بْنُ الْهُذَيْلِ قَالَ اجْتَمَعَ أَبُو حَنِيفَةَ وَابْنُ أَبِي لَيْلَى وَجَمَاعَةٌ مِنَ الْعُلَمَاءِ فِي وَلِيمَةٍ لِقَوْمٍ فَأَتَوْهُمْ بِطِيبٍ فِي مُدْهُنِ فِضَّةٍ فَأَبُوا أَنْ يَسْتَعْمِلُوهُ لِحَالِ الْمُدْهُنِ فَأَخَذَهُ أَبُو حَنِيفَةَ وَسَلَتَهُ بِإِصْبَعِهِ وَجَعَلَهُ فِي كَفِّهِ ثُمَّ تَطَيَّبَ بِهِ وَقَالَ لَهُمْ أَلَمْ تَعْلَمُوا أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أُتِيَ بِخَبِيصٍ فِي جَامِ فِضَّةٍ فَقَلَبَهُ عَلَى رَغِيفٍ ثُمَّ أَكَلَهُ فَتَعَجَّبُوا مِنْ فِطْنَتِهِ وَعَقْلِهِ
ابو یعقوب نے کہا: ہمیں ابو عبداللہ محمد بن حزام فقیہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں عبدالصمد بن الفضل نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں شداد بن حکیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں زفر بن ہذیل نے بیان کیا۔
زفر بن ہذیل کہتے ہیں: ابو حنیفہ، ابن ابی لیلیٰ اور علماء کی ایک جماعت ایک قوم کی دعوتِ ولیمہ میں جمع ہوئے۔ ان لوگوں کے سامنے خوشبو ایک چاندی کے عطر دان میں لائی گئی۔علماء نے اس خوشبو کو استعمال کرنے سے انکار کردیا، کیونکہ وہ عطر دان چاندی کا بنا ہوا تھا۔اس پر ابو حنیفہ نے وہ عطر دان اٹھایا، اپنی انگلی سے اس میں موجود خوشبو نکالی، اسے اپنی ہتھیلی میں رکھ لیا، پھر اسی خوشبو سے خود کو معطر کیا۔ اور ان سے فرمایا: "کیا تمہیں معلوم نہیں کہ انس بن مالک کے پاس چاندی کے ایک پیالے میں خبیص لایا گیا تھا، تو انہوں نے اسے ایک روٹی پر الٹ دیا، پھر اسے کھا لیا؟"
چنانچہ وہ لوگ ابو حنیفہ کی ذہانت، فہم اور عقل مندی پر حیران ہوگئے۔ (الانتقاء في فضائل الثلاثة الأئمة الفقهاء ١/١٥٨)
معترض کا اعتراض
اس پر تعصب سے مغلوب ایک غالی سلفی معترض یہ اعتراض کرتا ہے: "وعجبي من مصور الحكاية أن يفوته أن أخذ أبي حنيفة للمدهن وسلت الطيب منه، هو استعمال للمدهن الفضة واقرار لهذا الاستعمال، فإذا قصد بها ذكر ذكاء أبب حنيفة، فقد حطه في الفهم والورع من حيث لا يشعر، فتناول آنية فضة وإخراج ما فيها، هو استعمال لا يخفى على من دون أبي حنيفة"
یعنی: "مجھے اس حکایت گھڑنے والے پر تعجب ہے کہ اسے یہ بات کیوں سمجھ نہ آئی کہ ابو حنیفہ کا عطردان اٹھانا اور اس میں سے خوشبو نکالنا خود چاندی کے برتن کا استعمال اور اس کا اقرار ہے۔ اگر اس حکایت سے ابو حنیفہ کی ذہانت بیان کرنا مقصود تھا، تو دراصل اس نے انجانے میں ان کی فہم و تقویٰ کو کمزور ثابت کر دیا، کیونکہ چاندی کا برتن پکڑنا اور اس میں سے کچھ نکالنا خود ایک ایسا استعمال ہے جو ابو حنیفہ سے کم درجے کے آدمی پر بھی مخفی نہیں۔" (التنكيل بما في تأنيب الكوثري من الأباطيل - ط المكتب الإسلامي ١/١٥٥)
پہلا جواب:
سب سے پہلی بات یہ ہے کہ جہاں تک اس اعتراض کا تعلق ہے کہ یہ حکایت گھڑی گئی ہے، تو عبدالرزاق حمزہ صاحب پر لازم تھا کہ وہ یہ بتاتے کہ اسے کس راوی نے گھڑا، کیونکہ اس حکایت کی سند "لا بأس بہ" کے درجے کی ہے۔ اس میں راوی ابو عبداللہ محمد بن حزام الفقیہ کے بارے میں امام ابن عبدالبرؒ نے "العبد الصالح" کے الفاظ استعمال کیے ہیں (جامع بیان العلم وفضلہ، ٢/١٠٩٥)۔ لہٰذا یہ سند سرے سے گھڑی ہوئی نہیں۔
دوسرا جواب: الزامی محاسبہ - خود معترض کے اپنے مکتبِ فکر کے اکابر کی گواہی
چونکہ معترض فقہِ حنفی سے، بالخصوص احناف سے، شدید دشمنی رکھتا ہے اور نہایت غالی و متعصب سلفی ہے، اس لیے ہم یہاں فقہی بحث میں الجھنے کے بجائے معترض کو اسی کے اپنے گھر سے چند الزامی حوالے پیش کرتے ہیں۔ معترض کا بنیادی اعتراض یہ ہے کہ "أن أخذ أبي حنيفة للمدهن وسلت الطيب منه، هو استعمال للمدهن الفضة واقرار لهذا الاستعمال" یعنی عطردان کو اٹھانا اور اس سے خوشبو نکالنا بھی چاندی کے برتن کا استعمال ہے۔ اگر یہی اعتراض درست ہے، تو ذرا دیکھیے کہ خود معترض کے اپنے مکتبِ فکر اور اس کے اکابر کا اس مسئلے میں کیا موقف ہے:
١. شوکانیؒ خود اسی عبارت میں، جسے معترض کے مکتبِ فکر کے لوگ مستند مانتے ہیں، لکھتے ہیں: "وَلَا شَكَّ أَنَّ أَحَادِيثَ الْبَابِ تَدُلُّ عَلَى تَحْرِيمِ الْأَكْلِ وَالشُّرْبِ، وَأَمَّا سَائِرُ الِاسْتِعْمَالَاتِ فَلَا... وَالْحَاصِلُ أَنَّ الْأَصْلَ الْحِلُّ فَلَا تَثْبُتُ الْحُرْمَةُ إلَّا بِدَلِيلٍ يُسَلِّمُهُ الْخَصْمُ" (نیل الأوطار، ط حلاق، ١/٢٩٩) یعنی چاندی و سونے کے برتن کی حرمت صرف کھانے پینے میں ہے، باقی تمام استعمالات میں اصل حلت ہے۔
٢. معاصر سلفی حلقوں کے سب سے معتبر شیخ محمد بن صالح العثیمینؒ اپنی کتاب "الشرح الممتع" (١/٧٥) میں صراحتاً لکھتے ہیں: "وَالصَّحِيحُ أَنَّ الِاتِّخَاذَ وَالِاسْتِعْمَالَ فِي غَيْرِ الْأَكْلِ وَالشُّرْبِ لَيْسَ بِحَرَامٍ لِأَنَّ النَّبِيَّ ﷺ نَهَى عَنْ شَيْءٍ مَخْصُوصٍ وَهُوَ الْأَكْلُ وَالشُّرْبُ" یعنی کھانے پینے کے سوا کوئی بھی اتخاذ و استعمال حرام نہیں۔
٣. عبداللہ بن صالح الفوزان اپنی کتاب "منحۃ العلام في شرح بلوغ المرام" (١/٨٣) میں الصنعانیؒ، الشوکانیؒ اور ابن عثیمینؒ کا مشترکہ موقف نقل کرتے ہیں: "وَأَمَّا اسْتِعْمَالُ الْأَوَانِي فِي غَيْرِ الْأَكْلِ وَالشُّرْبِ كَالتَّطَيُّبِ وَالتَّكَحُّلِ وَالْوُضُوءِ وَالْغُسْلِ وَنَحْوِهَا فَهُوَ جَائِزٌ" یعنی تطیب و اکتحال و وضو و غسل جیسے تمام استعمالات جائز ہیں۔ یہی موقف مجلۃ جامعۃ ام القریٰ (٤/٧٩) میں بھی دہرایا گیا ہے۔
٤. علامہ عبدالرحمٰن مبارکپوریؒ، جو برصغیر کے اہلِ حدیث کے اکابر میں شمار ہوتے ہیں، اپنی شرحِ ترمذی تحفۃ الاحوذی (٥/٥١٠) میں لکھتے ہیں: "وَقَدْ أَجَازَ الْأَمِيرُ الْيَمَانِيُّ وَالْقَاضِي الشَّوْكَانِيُّ اسْتِعْمَالَ الْأَوَانِي مِنَ الْفِضَّةِ فِي غَيْرِ الْأَكْلِ وَالشُّرْبِ كَالتَّطَيُّبِ وَالتَّكَحُّلِ"۔
٥. حتیٰ کہ شافعی عالم ابن النحاسؒ اپنی کتاب "تنبیہ الغافلین" (١/٢٩١) میں لکھتے ہیں کہ اگر کسی کو سونے یا چاندی کے برتن میں کھانا پیش کیا جائے، اور وہ روکنے پر قادر نہ ہو، تو "فطريقه أن يأخذ الطعام من الآنية ويضعه في وعاء آخر أو على الخبز أو في يده الشمال ثم يأكل منه، لأنه إذ ذاك ليس بآكل فيها. وكذلك إذا أراد الاكتحال من مكحلة فضة أفرغ منه في شيء ثم اكتحل منه، والله أعلم." یہ الفاظ خود امام ابو حنیفہؒ کے اسی طرزِ عمل سے مشابہ ہیں!
٦. اور سب سے قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ نواب صدیق حسن خان : جو اہلِ حدیث/سلفی رجحان کے ایک بڑے مرجع ہیں، اور خود علامہ ناصر الدین البانیؒ ان کی کتب سے درس دیا کرتے تھے ، نے یہی عبارت اپنی کتاب میں جوں کی توں اور بلا اعتراض نقل کی ہے: الروضۃ الندیۃ شرح الدرر البہیۃ (ط المعرفۃ، ٢/٢١٢)۔
الزامی نتیجہ
اگر قاری شوکانیؒ، صنعانیؒ یا ابن عثیمینؒ میں سے کسی کو بھی حجت مانتا ہے، تو اسے بدرجۂ اولیٰ یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ امام ابو حنیفہؒ کا فعل جائز تھا کیونکہ ان تینوں اکابر کا موقف حنفی موقف سے بھی زیادہ وسیع ہے: وہ چاندی کے برتن سے براہِ راست تطیب کو بھی جائز کہتے ہیں، جبکہ حنفی فقہ میں خوشبو کو چاندی کے برتن سے براہِ راست استعمال کرنے کے بجائے ہاتھ پر لگا کر استعمال کرنے کی گنجائش ہے۔ گویا امام ابو حنیفہؒ نے اس معاملے میں بھی زیادہ احتیاط کا طریقہ اختیار کیا: برتن سے خوشبو ہاتھ پر لگائی، پھر ہاتھ سے استعمال کی۔ یہ طریقہ خود ان تمام سلفی مکاتبِ فکر کے مطابق بھی بلاشبہ جائز ہے۔
امام صاحبؒ نے ایسا کیوں کیا؟ حضرت انسؓ کی نظیر کا صحیح فہم
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امام صاحبؒ نے ایسا کیوں کیا؟ صاحبِ "المقابلۃ بین الہدیٰ والضلال" کو چاہیے تھا کہ اس حکایت پر نقد کرتے وقت انصاف کی نگاہ سے دونوں واقعات کو باہم مقابل رکھتا، اور ایک ہی اصل کو ایک مقام پر دلیل اور دوسرے مقام پر موجبِ طعن نہ بناتا۔
حضرت انس بن مالکؓ کے واقعے کی متعدد روایات میں صراحت موجود ہے کہ آپؓ کے سامنے خبیص چاندی کے جام میں پیش کیا گیا، مگر آپؓ نے اسے چاندی کے جام میں تناول نہ فرمایا، بلکہ حکم دیا کہ اسے وہاں سے نکال کر روٹی پر منتقل کر دیا جائے، پھر اسے تناول فرمایا۔ چنانچہ مسدد کی روایت میں ہے: "أُتِيَ بِخَبِيصٍ فِي جَامٍ مِنْ فِضَّةٍ أَوْ ذَهَبٍ فَأَمَرَ بِهِ فَحُوِّلَ عَلَى رَغِيفٍ ثُمَّ أَكَلَهُ مِنْهُ"۔ اسی طرح ابن سعدؒ کی روایت میں ہے کہ جب دہقان نے سونے یا چاندی کے جام میں خبیص پیش کیا تو حضرت انسؓ نے کھانے سے انکار کیا اور فرمایا: "حَوِّلُوهُ عَلَى شَيْءٍ" یعنی اسے کسی اور برتن میں منتقل کرو۔ طبرانیؒ کی روایت میں بھی یہی مضمون ہے کہ آپؓ نے چاندی کے برتن میں پیش کیے جانے پر خبیص ناپسند فرمایا، اسے واپس کر دیا، پھر جب دوسرے برتن میں منتقل کر کے لایا گیا تو کھا لیا۔ اسی طرح بیہقیؒ کی صحیح سند والی روایت میں ہے کہ فالوذج چاندی کے برتن میں لایا گیا تو حضرت انسؓ نے اسے تناول نہ فرمایا، بلکہ اسے خلنج کے برتن میں منتقل کیا گیا، پھر آپؓ نے اسے کھایا (العتيق مصنف جامع لفتاوى أصحاب النبي ﷺ، ٢٨/١٤)۔
پس حضرت انسؓ کے ان آثار سے یہ بات نہایت واضح ہے کہ ممانعت خود اس چیز سے نہیں تھی جو چاندی کے برتن میں رکھی گئی تھی، بلکہ چاندی کے برتن کو بذاتِ خود کھانے کے لیے استعمال کرنے سے اجتناب تھا۔ چنانچہ جب خبیص کو دوسرے برتن یا روٹی پر منتقل کر دیا گیا تو آپؓ نے اسے تناول فرمایا۔ اور یہ بھی نہایت لطیف نکتہ ہے کہ حضرت انسؓ نے روٹی کا اکرام قبول کیا یعنی کھانے کو قبول کیا تاکہ پیش کرنے والے میزبان کا دل بھی مجروح نہ ہو، اور شریعت کے اصول بھی پامال نہ ہوں۔
بالکل یہی معاملہ امام ابو حنیفہؒ کا ہے۔ ان کے سامنے بھی خوشبو چاندی کے مدہن میں پیش کی گئی۔ انہوں نے چاندی کے مدہن کو بطورِ ظرفِ استعمال ہرگز اختیار نہیں کیا، بلکہ اس میں موجود خوشبو کو انگلی سے نکال کر اپنی کفِ دست میں رکھا اور پھر اسی سے تطیب فرمایا بالکل اسی اصول پر قیاس کرتے ہوئے جس پر حضرت انسؓ نے عمل کیا تھا تاکہ میزبان کا دل بھی رہ جائے اور شرعی ضابطہ بھی پامال نہ ہو۔
پس تعجب اس بات پر ہے کہ معترض نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے فعل کو اسی مسئلے میں بطورِ حجت پیش کیا، لیکن جب امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے فعل میں اس سے قریب تر نظیر سامنے آئی تو اسے ان کی فہم و ورع کے خلاف قرار دے دیا۔ واللہ اعلم بالصواب۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں