نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

امامِ اعظمؒ بحیثیتِ "حافظ الحدیث"



امامِ اعظمؒ بحیثیتِ "حافظ الحدیث"


الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سیدنا محمد وعلی آلہ واصحابہ اجمعین۔

امتِ مسلمہ کے علمی افق پر امام ابو حنیفہؒ کی شخصیت اس آفتاب کی مانند ہے جس کی شعاعیں فقہ اور حدیث دونوں جہتوں کو منور کرتی ہیں۔ آپ کی فقاہت، آپ کے بحرِ حدیث سے ہی کشید کی گئی ہے۔ جس طرح تمام صحابہؓ شہسوار تھے مگر حضرت علیؓ کا امتیاز جدا تھا، اسی طرح امام صاحبؒ تمام علومِ اسلامیہ کے امام تھے مگر فقہ میں آپ کی جلالتِ شانی نے دیگر پہلوؤں کو ڈھانپ لیا۔

ذیل میں ان جلیل القدر ائمہ و محدثین کی گواہیاں پیش ہیں جنہوں نے امام صاحبؒ کو باقاعدہ "حفاظِ حدیث" کی صفِ اول میں شمار کیا ہے:

 ائمہِ اسماء الرجال کی مستند شہادتیں

1. چنانچہ امام ذہبی رحمہ اللہ (م۷۴۸؁ھ)  نے اپنی مشہور کتاب «تذکرة الحفاظ» میں آپ کا ذکر حفاظِ حدیث میں کیا ہے۔ آپ ؒ  نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو ’’طبقات المحدثین ‘‘ میں  ذکر کیا ۔(المعين في طبقات المحدثين : ص ۵۷،رقم ۵۴۶) مزید تفصیل کیلئے قارئین دیکھیں "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود


تعریف و توثیق ابو حنیفہ سلسلہ نمبر 10 :امام اعظم ابوحنیفہ ؒ امام ذہبی ؒ کی نظر میں :مناقب الامام ابی حنیفہ و صاحبیہ کی عبارت :


 2. اسی طرح حافظ ابن عبد الہادی المقدسی (وفات 744ھ)   نے اپنی کتاب «(طبقات علماء الحديث ١/‏٢٦٠ )» میں امام ابو حنیفہ کو حفاظ میں شامل کیا اور آپ کو “الإمام، فقيه العراق” کے لقب سے یاد کیا۔


3. اسی طرح شام کے جلیل القدر مؤرخ و محدث حافظ ابن ناصر الدین الدمشقی (وفات 842ھ)  رحمہ اللہ نے اپنی کتاب «بدیعة البیان عن موت الأعیان ص 36» میں بھی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو حفاظِ حدیث میں شمار کیا ہے۔

4. ابن عبد الهادي الحنبلي ابن المَبْرِد  (وفات 909 ھ)  نے اپنی کتاب «طبقات الحفاظ» میں آپ کا ذکر حفاظ میں کیاہے۔

5.  امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ (وفات911 ھ)   نے بھی اپنی معروف تصنیف «طبقات الحفاظ للسيوطي ١/‏٨٠» میں امام ابو حنیفہ کو اسی زمرے میں شمار فرمایا۔

6. اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے،  الشيخ العالم المحدث محمد بن رستم بن قباد الحارثي البدخشي متوفى 1161هـ   نے اپنی کتاب «تراجم الحفاظ» میں بھی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا ذکر حفاظِ حدیث کے طور پر کیا ہے۔

7.امام محمد بن یوسف الصالحی الشامی (وفات 942ھ) اپنی کتاب «عقود الجمان في مناقب الإمام الأعظم أبي حنيفة النعمان» میں ایک مستقل باب قائم کرتے ہیں جس میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو “کبار حفاظِ حدیث” میں شمار کرتے ہوئے واضح فرماتے ہیں کہ فقہ میں ان کی غیر معمولی مہارت دراصل حدیث پر گہری دسترس کا نتیجہ تھی۔ (ص 319، طبع حیدر آباد دکن، 1394ھ)

8. اسی طرح امام اسماعیل بن محمد العجلونی  رحمہ اللہ (متوفی 1162ھ)  اپنی «عقد الجوهَر الثمين فی اربعين حديثًا من احاديث سيد المرسلين» جو الأربعين العجلونيہ کے نام سے مشہور ہے  میں امام ابو حنیفہ کی “مسند” شامل کرتے ہیں تاکہ یہ واضح ہو جائے کہ وہ اسی فن (یعنی علمِ حدیث) کے اہل میں سے ہیں، اور حاشیہ میں آپ کو “امام الائمہ، ہادیِ امت” قرار دیتے ہوئے آپ کے علمی مقام، وسعتِ علم اور کتاب و سنت میں مہارت کو نمایاں کرتے ہیں۔ (ص 4، طبع مصر 1322ھ)


9.  ابن قیم الجوزیہ  نے بھی امام ابو حنیفہ کو ائمۂ حدیث میں شمار کرتے ہوئے فرمایا: «أما طريقة الصحابة والتابعين وأئمة الحديث كالشافعي والإمام أحمد ومالك وأبي حنيفة وأبي يوسف والبخاري وإسحاق...»
یعنی صحابہ، تابعین اور ائمۂ حدیث کے طریقے میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا شمار صاف طور پر کیا گیا ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آپ کو محدثین کے طبقے میں شامل سمجھا جاتا تھا (إعلام الموقعين عن رب العالمين - ت مشهور ٤/‏٥٨)۔
10 . امام ابن کثیر نے اپنی مشہور کتاب البداية والنهاية (جلد 6، صفحہ 93) میں امام ابو حنیفہ کا ذکر کرتے ہوئے انہیں « الأئمة المعتبرين» معتبر ائمہ میں شمار کیا ہے، جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ ان کی علمی عظمت اور دینی مقام کو تسلیم کرتے تھے۔

یہ تمام تفصیل کتاب «مکانة الإمام أبي حنیفة في الحديث» (المؤلف: محمد عبد الرشید النعمانی) سے ماخوذ ہے، جس میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی حدیث میں شان کو دلائل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔

 11. مزید برآں، امام شہرستانی نے اپنی کتاب «الملل والنحل» (١/١٤٦) میں ان ائمۂ حدیث کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
الحسن بن محمد بن علی بن أبي طالب، وسعید بن جبیر، وطلق بن حبیب، وعمرو بن مرة، ومحارب بن زیاد، ومقاتل بن سلیمان، وذر، وعمرو بن ذر، وحماد بن أبي سلیمان، وأبو حنیفة، وأبو یوسف، ومحمد بن الحسن، وقدید بن جعفر۔
پھر فرمایا کہ: وهؤلاء كلهم أئمة الحديث  “ یہ سب کے سب ائمۂ حدیث ہیں”
اس تصریح میں بھی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو صاف طور پر ائمۂ حدیث میں شمار کیا گیا ہے۔

12. امام ابن خلدون  دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ : ويدلّ على أنّه من كبار المجتهدين في علم الحديث اعتماد مذهبه بينهم والتّعويل عليه واعتباره ردّا وقبولا.

امام ابو حنیفہ علمِ حدیث میں بڑے مجتہدین میں شامل تھے، کیونکہ اہلِ علم کے نزدیک ان کے مذہب پر اعتماد کیا جاتا تھا، اس پر بھروسا کیا جاتا تھا اور اسے قبول و رد کے معاملے میں معیار کی حیثیت حاصل تھی (تاريخ ابن خلدون ١/‏٥٦٢)۔


ان تصریحات سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نہ صرف فقیہِ اعظم تھے بلکہ جلیل القدر محدث اور حافظِ حدیث بھی تھے، اور آپ کی فقاہت دراصل آپ کی مضبوط حدیث فہمی کا ہی ثمرہ تھی۔ لہٰذا جو لوگ آپ کی شانِ حدیث کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ دراصل اکابر محدثین کے اقوال اور امت کے اجماعی فہم کے خلاف بات کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو سمجھنے اور اس پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

 مزید تفصیل کے لیے قارئین  ملاحظہ کریں۔


پیش لفظ: سلسلۂ تعریف و توثیقِ امام ابو حنیفہؒ : علمِ حدیث کے اُفق پر چمکتا ستارہ: تابعی، ثقہ، ثبت، حافظ الحدیث، امام اعظم ابو حنیفہؒ


تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...