نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

اعتراض نمبر 6 : امام ابو حنیفہؒ علم نحو میں کمزور تھے۔

 اعتراض 6 :  امام ابو حنیفہؒ علم نحو میں کمزور تھے ۔ أخبرنا العتيقي، حدثنا محمد بن العباس ، حدثنا أبو أيوب سليمان بن إسحاق الجلاب قال: سمعت إبراهيم الحربي يقول: كان أبو حنيفة طلب النحو في أول أمره، فذهب يقيس فلم يجئ، وأراد أن يكون فيه أستاذا، فقال: قلب وقلوب، وكلب وكلوب. فقيل له: كلب وكلاب. فتركه ووقع في الفقه فكان يقيس، ولم يكن له علم بالنحو. فسأله رجل بمكة فقال له رجل شج رجلا بحجر، فقال هذا خطأ ليس عليه شئ، لو أنه حتى يرميه بأبا قبيس لم يكن عليه شئ. الجواب :  میں کہتا ہوں کہ اس روایت کے مرکزی راوی ابراہیم بن اسحاق کی وفات 285ھ ہے تو اس کے اور امام ابو حنیفہؒ کے درمیان تو بیابان ہیں (یعنی ایسے راوی ہیں جن کا سر پاؤں معلوم نہیں تو یہ خبر مقطوع ہے اور خبر مقطوع تو ان (خطیب کے ہم مذہب شوافع حضرات کے نزدیک مردود ہے (تو خطیب کیسے اس کو پیش کر رہا ہے) پھر اس کی سند میں جو محمد بن العباس ہے، وہ ابن حیویہ الحزاز ہے اور خود ج 3 ص 22 میں خطیب نے ازہری سے اس کا یہ ترجمہ ذکر کیا ہے کہ اس میں تسامح تھا۔ بعض دفعہ کچھ پڑھنے کا ارادہ کرتا تو اس کلام کا اصل اس کے پڑھے ہوئے کلام کے قر...

امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رحمہ اللہ پر ایک غیر مقلد یورپی البانوی جرح کا محقق و محدث شعیب ارناؤوط رحمہ اللہ سے زبردست رد۔

 امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رحمہ اللہ پر ایک غیر مقلد یورپی البانوی جرح کا زبردست رد۔ حدیث 2282   حدثنا أحمد بن داود قال : حدثنا إسماعيل بن سالم قال : حدثنا محمد بن الحسن قال : حدثنا أبو حنيفة قال : حدثنا عطاء بن أبي رباح ، عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : 《 إذا طلع النجم رفعت العاهة عن أهل كل بلد 》 احمد بن داؤد رحمہ اللہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، انہوں نے فرمایا کہ ہمیں اسماعیل بن سالم نے حدیث بیان کی ، انہوں نے فرمایا کہ ہمیں محمد بن حسن رحمہ اللہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے فرمایا کہ ہمیں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے فرمایا کہ ہمیں عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ جب ستارہ طلوع ہوتا ہے تو سارے شہر والوں سے  مصیبت اٹھا لی جاتی ہے ۔  (شرح مشکل الآثار : جلد 6 صفحہ 53 ،54 موسستہ الرسالہ بیروت) مشہور محقق و محدث امام شعیب ارناؤوط حنفی رحمہ اللہ المتوفی 1438ھ امام ابو جعفر طحاوی حنفی رحمہ اللہ کی کت...

مرد وعورت کے طریقہ نماز میں فرق اور غلام مصطفی ظہیر امن پوری کے مضمون کا تحقیقی جائزہ

 مرد وعورت کے طریقہ نماز میں فرق تمہید: اس مضمون میں ہم اہل حدیث غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری کی تحریر کا تحقیقی جائزہ پیش کریں گیں۔ قارئین غیر مقلدوں کی تحریر ان کے محدث فورم پر پڑھ سکتے ہیں مرد وعورت کے طریقہ نماز میں فرق تحریر : غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری تحریر کا طریقہ کار یہ ہیکہ پہلے ہم امن پوری صاحب کے نام لکھ کر انکی عبارت نقل کرے گیں جس میں وہ احناف کے دلائل کا جواب دینے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں اور اکثر جگہ بے تکی باتیں کر گزرتے ہیں ، اس کے بعد تحقیقی جائزہ کے عنوان سے ہم اپنا جواب تحریر کریں گیں ۔ 1. غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری : راویہ میمونہ بنت عبدالجبار کے حالات زندگی نہیں مل سکے۔جس روایت کے دو راویوں کی توثیق ثابت نہ ہو، اُسے بہ طور حجت پیش کرنا اہل حق کا وطیرہ نہیں ہو سکتا۔ تحقیقی جائزہ : انتہائی حیرت کی بات ہے نام نہاد محقق امن پوری صاحب کو امام ہیثمی رحمہ اللہ کا کلام "لَمْ أَعْرِفْھَا میں اسے پہچان نہیں پایا۔(مَجمع الزوائد : ٢/١٠٣)" تو نظر آ گیا لیکن پوری عبارت میں سے یہ الفاظ نظر نہ آئے جن میں سند کے باقی راویوں کو ثقہ کہا گیا ہے۔ قارئین پوری عبارت پڑھیں او...

روایت یا سارية الجبل کا غیر مقلدین کے مستند علماء سے تصدیق

روایت یا سارية الجبل کا غیر مقلدین کے مستند علماء سے تصدیق  ماخوذ از مجلہ راہِ ہدایت  محترم محسن اقبال صاحب موجودہ دور کے اہلحدیث کہلانے والے اکثر نام نہاد محققین کشف و کرامات کے منکر ہیں اور کشف کو علم غیب کا نام دے کر اس پر کفر و شرک کے فتوے لگاتے ہیں۔ کشف و کرامت کا ایک مشہور واقعہ امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ہے جس کو موجودہ نام نہاد محققین نہیں مانتے اور اس اس واقعے کے انکار کے لئے کچھ جروحات پیش کرتے ہیں۔ ہم یہاں اس واقعے کی تصدیق اہلحدیث کہلانے والے نام نہاد محققین کے معتبر علماء سے پیش کر رہے ہیں جنہوں نے اس واقعے کی سند کو حسن کہا اور اس واقعے کو بطور کرامت تسلیم کیا۔  کشف کا ایک واقعہ حضرت امیر المومنین عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیش آیا جو درج ذیل ہے! "ایک بار وہ جمعہ کے دن منبر پر خطبہ دے رہے تھےکہ لوگوں نے سنا : آپ کہہ رہے ہیں ، "یا ساریۃ الجبل" اے ساریہ پہاڑ میں پناہ لو ، لوگوں کو اس پر تعجب ہوا، اور جب آپ سے اسکی وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا : میرے سامنے ایسا ظاہر ہوا کہ ساریہ بن زنیم جو آپ کے ایک کما نڈر تھے ۔ دشمنوں کے نرغہ میں ہیں اور...

امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا خواب میں اللہ کا دیدار کرنا اور غیر مقلدین کے اعتراض کا جواب

امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا خواب میں اللہ کا دیدار کرنا اور غیر مقلدین کے اعتراض کا جواب  ماخوذ از مجلہ راہِ ہدایت  محترم محسن اقبال صاحب        در مختارمیں امام ابو حنیفہؒ کا ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ امام صاحبؒ نے خواب میں اللہ تعالیٰ کی زیارت کی۔  اس واقعہ کو بنیاد بنا کر غیر مقلدین اعتراض کرتے ہیں کہ حنفیوں نےغلو کیا ہے، حنفی جھوٹے ہیں اور امام ابو حنیفہؒ بھی جھوٹے ہیں کیونکہ اللہ کی خواب میں زیارت نہیں ہو سکتی، جو یہ دعویٰ کرتا ہے وہ جھوٹا ہے،وغیرہ وغیرہ۔      سب سے پہلی بات یہ ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اللہ کی خواب میں زیارت کا واقعہ صرف احناف نے نقل نہیں کیا بلکہ یہ واقعہ شیخ یوسف صالح الشافعیؒ نے اپنی کتاب ''عقود الجمان فی مناقب ابی حنیفۃ النعمان'' میں نقل کیا ہے جو کہ شافعی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔ کیا غیر مقلدین یہاں بھی یہ اعتراض کریں گے کہ شیخ یوسف صالح شافعی ؒ بھی غلو کر رہے ہیں اور یہ واقعہ نقل کرنے کی وجہ سے کذاب ہیں؟ اس کے علاوہ امام احمد بن حنبلؒ کا اللہ کی خواب میں زیارت کا واقعہ امام ابن جوزیؒ کی کتاب '' مناقب ام...