نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

کتاب : تسکین العینین فی ترکِ رفع یدین - قسط 8 : حدیث جابربن سمرہ رضی اللہ عنہ تحقیق کے آئینے میں

  بسم اللہ الرحمٰن الرحیم حدیث جابربن سمرہ رضی اللہ عنہ تحقیق کے آئینے میں ۱۔حدیث جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بحوالہ صحیح مسلم ‘‘ حدثنا ابوبکر بن ابی شیبۃ وابوکریب قالا حدثنا ابومعاویۃ عن الاعمش عن المسیب بن رافع عن تمیم بن طرفۃ عن جابر بن سمرۃ : قال خرج علینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال مالی اراکم رافعی ایدیکم کانھا اذناب خیل شمس اسکنوافی الصلٰوۃ ’’ ترجمہ: سیدنا جابربن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : ہم پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا ہو گیا مجھے کہ میں دیکھ رہا ہوں تمہیں نماز میں رفع یدین کرتے ہوئے جیسے شریر گھوڑوں کی دمیں ہوں، نماز میں سکون اختیار کرو۔(صحیح مسلم: ج۱، ص۱۸۱) فائدہ: اس حدیث کی سند کے تمام راوی ثقہ و صدوق ہیں، اور اس کی سند بالکل صحیح وثابت ہے۔ اور اس حدیث شریف میں مسلک اہلسنت والجماعت پر واضح دلیل ہے کہ نماز کے اندر پہلے رفع یدین مشروع تھا، بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔ نیز صحیح مسلم کے علاوہ یہ حدیث من طریق تمیم بن طرفہ الطائی مختلف سندوں کے ساتھ درج ذیل کتب میں بھی موجود ہے۔ (۱)۔۔۔۔صحیح...

سلسلہ دفاعِ قاضی ابو یوسفؒ قسط نمبر 10 : قاضی ابو یوسفؒ سے منسوب ایک واقعے کی تحقیق: ایک شخص نے قسم کھا رکھی تھی کہ وہ لونڈی کو نہ بیچے گا اور نہ ہبہ کرے گا۔

  سلسلہ دفاعِ قاضی ابو یوسفؒ قسط نمبر 10 :   قاضی ابو یوسفؒ سے منسوب ایک واقعے کی تحقیق:  ایک شخص نے قسم کھا رکھی تھی کہ وہ لونڈی کو نہ بیچے گا اور نہ ہبہ کرے گا۔ أخبرنا أحمد بن عمر بن روح النهرواني ومحمّد بن الحسين بن محمّد الجازري- قال أحمد أخبرنا وقال محمّد حدثنا- المعافى بن زكريّا الجريري، حدثنا محمّد بن أبي الأزهر ، حدثنا حمّاد بن إسحاق الموصليّ ، حدثني أبي قال: حدثني بشر بن الوليد وسألته من أين جاء؟ قال: كنت عند أبي يوسف يعقوب بن إبراهيم القاضي وكنا في حديث ظريف، قال: فقلت له: حدثني به. فقال: قال لي يعقوب: بينا أنا البارحة قد أويت إلى فراشي، وإذا داق يدق الباب دقا شديدا، فأخذت عليّ إزاري وخرجت فإذا هو هرثمة بن أعين، فسلمت عليه فقال: أجب أمير المؤمنين، فقلت: يا أبا حاتم لي بك حرمة، وهذا وقت كما ترى ولست آمن أن يكون أمير المؤمنين دعاني لأمر من الأمور، فإن أمكنك أن تدفع بذلك إلى غد؟ فلعله أن يحدث له رأي فقال: ما إلى ذلك سبيل. قلت: كيف كان السبب؟ قال: خرج إليّ مسرور الخادم فأمرني أن آتي بك أمير المؤمنين، فقلت: تأذن لي أصب على ماء وأتحنط فإن كان أمر من الأمور كنت قد أحكم...

کتاب : تسکین العینین فی ترکِ رفع یدین - قسط 7 : احادیث سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما،سیدنا عباد بن زبیر رحمۃ اللہ علیہما تحقیق کے آئینے میں

  بسم اللہ الرحمٰن الرحیم    کتاب : تسکین العینین فی ترکِ رفع یدین - قسط 7 :  احادیث سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،سیدنا عبداللہ   بن عباس رضی اللہ عنہما،سیدنا عباد بن زبیر رحمۃ اللہ علیہما   تحقیق کے آئینے میں (۱) حدیث ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ بحوالہ التمہید لابن عبدالبر قال الامام ابوعمر یوسف بن عبداللہ بن محمد ابن عبدالبرالنمری القرطبی: وحجتھم ایضاً، مارواہ نعیم المبحمر وابوجعفر القاری عن ابی ہریرۃ: انہ کان یرفع یدیہ اذا افتتح الصلاۃ ویکبر کلما خفض ورفع ویقول: انا اشبھکم صلاۃ برسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ (التمہید لمافی المؤطا من المعانی والا سانید ج۵،ص۵۸) ترجمہ:امام ابو عمر بن عبدالبر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ اسی طرح ترک رفع یدین کے قائلین کی دلیل وہ حدیث بھی ہے جسے نعیم المبحمر اور ابوجعفر القارئ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جب نماز شروع کرتے تو ہی رفع یدین کرتے (اور بقیہ) جھکنے واٹھنے کے وقت صرف تکبیر ہی کہتے تھے اور فرماتے تھے کہ میں تم میں سب سے زیادہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے ساتھ...