کیا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی مجالس درودِ پاک سے خالی ہوتی تھیں؟
آج کل بعض کم فہم اور متعصب حلقوں کی جانب سے چند ایسی روایات پیش کر کے عامۃ الناس کو مغالطے میں ڈالنے کی ناپاک جسارت کی جاتی ہے، جن کا مقصد یہ باور کرانا ہوتا ہے کہ امامِ اعظم رحمہ اللہ کی مجالسِ علم (معاذ اللہ) ذکرِ رسول ﷺ اور درود و سلام سے خالی ہوا کرتی تھیں۔
پہلی روایت: امام ابو حنیفہ کی مجلس کے بارے میں قناد کا قول
حاسدین کی طرف سے پیش کی جانے والی پہلی روایت درج ذیل ہے:
أخبرني أبو نصر أحمد بن الحسين القاضي - بالدينور - أخبرنا أبو بكر أحمد بن محمد بن إسحاق السني الحافظ قال: حدثني عبد الله بن محمد بن جعفر، حدثنا هارون بن إسحاق سمعت محمد بن عبد الوهاب القناد يقول: حضرت مجلس أبي حنيفة، فرأيت مجلس لغو، ولا وقار فيه، وحضرت مجلي سفيان الثوري، فكان الوقار والسكينة والعلم فيه، فلزمته.
ترجمہ: "محمد بن عبدالوہاب القناد کہتے ہیں کہ میں نے ابو حنیفہ کی مجلس میں حاضری دی، تو میں نے اسے ایک لغو مجلس پایا جس میں کوئی وقار نہ تھا۔ اور میں سفیان ثوری کی مجلس میں حاضر ہوا، تو وہاں وقار، سکینہ اور علم موجود تھا، چنانچہ میں ان کی مجلس سے چمٹ گیا۔"
جواب:
یہ روایت سند کے اعتبار سے سخت ضعیف اور ناقابلِ قبول ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی "عبد اللہ بن محمد بن جعفر، ابو القاسم القزوینی الفقہ الشافعی" موجود ہے، جس کے بارے میں ائمہ جرح و تعدیل کا فیصلہ یہ ہے کہ "كَذَّابٌ يَضَعُ الْحَدِيثَ" (یہ شخص کذاب یعنی بہت بڑا جھوٹا ہے اور حدیثیں گھڑا کرتا تھا)۔ قارئین دیکھیں : "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود
دوسری روایت: ابنِ مبارک کا منسوب قول (تاریخِ بغداد)
دوسرا اعتراض تاریخِ بغداد کی اس روایت سے اٹھایا جاتا ہے:
أَخْبَرَنِي الْخَلَّالُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ عَلِيٍّ الْفَامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَالِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ حَمَّادٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ الْأَشْعَثِ السِّجِسْتَانِيُّ، قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: مَا مَجْلِسٌ مَا رَأَيْتُ ذُكِرَ فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ وَلَا يُصَلَّى عَلَيْهِ إِلَّا مَجْلِسَ أَبِي حَنِيفَةَ۔ (تاریخ بغداد)
ترجمہ: "امام ابن المبارک نے فرمایا: میں نے ایسی کوئی مجلس نہیں دیکھی جس میں رسول اللہ ﷺ کا ذکر کیا جائے اور ان پر درود نہ پڑھا جائے، ماسوائے ابو حنیفہ کی مجلس کے۔"
جواب:
یہ روایت منقطع ہے اور اصولِ حدیث کی رو سے منقطع روایت حجت نہیں ہوتی۔ وجہِ انقطاع یہ ہے کہ اس کی سند میں امام ابو داؤد (صاحبِ سنن، متوفی 275ھ) یہ قول امام عبداللہ بن المبارک (متوفی 181ھ) سے نقل کر رہے ہیں، جبکہ امام ابو داؤد کی امام ابنِ مبارک سے ملاقات سرے سے ثابت ہی نہیں ہے۔ امام ابو داؤد کی پیدائش (202ھ) ابنِ مبارک کی وفات کے بھی بعد کی ہے۔ لہٰذا یہ روایت سنداً ساقط ہے۔
تیسری روایت: مجالسِ سفیان اور مجلسِ نعمان کا موازنہ
اعتراض کے طور پر تیسری روایت یوں پیش کی جاتی ہے:
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ عَنِ بْنِ الْمُبَارَكِ قَالَ: كُنْتُ إِذَا شِئْتُ رَأَيْتُ سُفْيَانَ مُصَلِّيًا وَإِنْ شِئْتُ رَأَيْتُهُ مُحَدِّثًا وَإِنْ شِئْتُ رَأَيْتُهُ فِي غَامِضِ الْفِقْهِ وَمَجْلِسٌ آخَرُ شَهِدْتُهُ مَا صُلِّيَ فِيهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي النُّعْمَانَ (التاريخ الأوسط ٢/١٥١ , التاريخ الكبير للبخاري - ت الدباسي والنحال ٥/١٠٥ )
یہی روایت دیگر کتب میں بھی معمولی لفظی تغیر کے ساتھ مروی ہے، جیسے امام ابو نعیم اصبہانی (ت 430ھ) کی 'حلیۃ الاولیاء' میں ہے:
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْحَمَّالُ ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ هَارُونَ النَّيْسَابُورِيُّ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ الْمُبَارَكِ يَقُولُ: تَعْجَبُنِي مَجَالِسُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، كُنْتُ إِذَا شِئْتُ رَأَيْتُهُ فِي الْوَرَعِ، وَإِذَا شِئْتُ رَأَيْتُهُ مُصَلِّيًا، وَإِذَا شِئْتُ رَأَيْتُهُ غَائِصًا فِي الْفِقْهِ، فَأَمَّا مَجْلِسٌ أَتَيْتُهُ فَلَا أَعْلَمُ أَنَّهُمْ صَلَّوْا عَلَى النَّبِيِّ ﷺ حَتَّى قَامُوا عَنْ شَغَبٍ - يَعْنِي مَجْلِسَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَصْحَابِهِ-۔ (حلية الأولياء وطبقات الأصفياء - ط السعادة 6/358)
اور امام ابنِ عبد البر کی 'جامع بیان العلم وفضله' میں یوں ہے:
حَدَثَنَا عَبْدُ اللَّهِ نا الْحَسَنُ نا يَعْقُوبُ نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ يَقُولُ: كَانَ يُعْجِبُنِي مُجَالَسَةُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَكُنْتُ إِذَا شِئْتُ رَأَيْتُهُ مُصَلِيًا وَإِذَا شِئْتُ رَأَيْتُهُ فِي الزُّهْدِ وَإِذَا شِئْتُ رَأَيْتُهُ فِي الْغَامِضِ مِنَ الْفِقْهِ وَرُبَّ مَجْلِسٍ شَهِدْتُهُ مَا صُلِّيَ فِيهِ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ " قَالَ عَبْدَانُ: كَأَنَّهُ عَرَّضَ بِمَجْلِسِ أَبِي حَنِيفَةَ۔ (جامع بيان العلم وفضله 2/1086)
ترجمہ:
"ابنِ مبارک فرماتے ہیں: مجھے سفیان ثوری کی مجالس بہت پسند تھیں۔ میں جب چاہتا انہیں زہد و ورع میں پاتا، جب چاہتا نماز پڑھتے دیکھتا اور جب چاہتا فقه کے غامض (پیچیدہ) مسائل میں غواصی کرتے دیکھتا۔ لیکن ایک اور مجلس جس میں، میں حاضر ہوا، میں نہیں جانتا کہ انہوں نے نبی ﷺ پر درود پڑھا ہو یہاں تک کہ وہ شور و غوغا پر اٹھے— یعنی ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب کی مجلس۔"
اس روایت کا اصولی، فقهی اور علمی محاکمہ
اس اعتراض کا جواب ہم چند علمی و اصولی نکات کی روشنی میں دیں گے تاکہ فہمِ سلیم رکھنے والوں کے لیے کوئی ابہام باقی نہ رہے:
1. مسئلہ درود شریف کا فقہی حکم اور احناف کا موقف:
شریعتِ مطہرہ میں رسول اللہ ﷺ پر زندگی میں کم از کم ایک بار درود شریف پڑھنا فرض ہے، اور جب کبھی آپ ﷺ کا نامِ نامی اسمِ گرامی آئے تو اس وقت درود شریف پڑھنا واجب ہے۔ البتہ، اگر ایک ہی محفل یا مجلس میں متعدد بار رسول اللہ ﷺ کا ذکرِ مبارک آئے، تو احناف کے ہاں مفتیٰ بہ قول کے مطابق اس پوری مجلس میں کم از کم ایک بار درود شریف پڑھنا واجب ہے، اور ہر مرتبہ پڑھنا مستحب اور باعثِ اجر و ثواب ہے۔ یہ صرف احناف کا ہی نہیں، بلکہ خیر القرون کے کبار اہلِ علم کا مسلمہ اصول رہا ہے۔ چنانچہ امام ابو عیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ (متوفی 279ھ) اپنی شہرہ آفاق کتاب 'سنن الترمذی' میں اس فقهی ضابطے کی صراحت کرتے ہوئے رقمطراز ہیں: وَيُرْوَى عَنْ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ قَالَ: إِذَا صَلَّى الرَّجُلُ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ مَرَّةً فِي المَجْلِسِ أَجْزَأَ عَنْهُ مَا كَانَ فِي ذَلِكَ المَجْلِسِ۔ (سنن الترمذي - ت شاكر 5/550) ترجمہ: "اور بعض اہل علم سے یہ روایت کیا گیا ہے، انہوں نے فرمایا: جب کوئی شخص مجلس میں (نبی کریم ﷺ کے تذکرے پر) ایک مرتبہ درود شریف پڑھ لے، تو اس مجلس میں جو کچھ (ذکر) بھی ہو، یہ ایک مرتبہ کا درود اس کی طرف سے کفایت کر جاتا ہے۔" اب عقلِ سلیم گواہی دیتی ہے کہ جب ائمہِ سلف اور محدثین کے ہاں بھی مجلس میں ایک بار درود پڑھنے سے وجوب ساقط ہو جاتا ہے اور وہ پوری مجلس کے تکرارِ ذکر کے لیے کافی و شافی مانا جاتا ہے، تو پھر معترضین کا امامِ اعظم رحمہ اللہ کی مجلسِ استنباط پر یہ طعن تشنیع کرنا کہ وہاں ہر بار درود کی تکرار کیوں نہیں تھی، جہالت اور عناد کے سوا کچھ نہیں! خود ہمارے حزبِ مخالف یعنی غیر مقلدین (اہلِ حدیث) بھی اسے ہر بار فرض و واجب قرار نہیں دیتے۔ چنانچہ غیر مقلدین لکھتے ہیں: "اور جب آیتِ کریمہ سے تکرار کا وجوب ثابت نہیں ہے تو معلوم ہوا کہ زندگی بھر میں کم از کم ایک بار درود پڑھنا تو فرض ہے اور بار بار پڑھنا مستحب ہے کیونکہ بہت سی احادیث میں درود کی ترغیب دی گئی ہے۔" (فتاوی اسلامیہ، ج 1، ص 38)
جب غیر مقلدین کے ہاں بھی ہر بار درود پڑھنا واجب نہیں بلکہ مستحب ہے، تو احناف پر یہ طعن تشنیع کیوں؟
2. محدثین اور فقہاء کی مجالس کا بنیادی فرق (امورِ اضافیہ):
محدثینِ کرام کا طریقہ کار یہ ہوتا تھا کہ وہ احادیث کی قراءت اور روایت کرتے تھے۔ حدیث کے متن میں بار بار "قال رسول اللہ ﷺ" آتا ہے، اس لیے ان کی مجالس میں زبان سے درود شریف کی تکرار کثرت سے ظاہر ہوتی تھی۔
اس کے برعکس، فقہاء کرام (جیسے امام ابو حنیفہ اور ان کے تلامذہ) کی مجالس مجالسِ استنباط و اجتہاد ہوتی تھیں۔ وہاں کسی فقہی مسئلے پر غور و فکر، جرح و بحث اور ادلہ کا تبادلہ ہو رہا ہوتا تھا۔ وہاں مباحثے کے دوران بار بار نامِ نامی لینے کی بجائے احکامِ شرعیہ کے علل و اسباب پر گفتگو ہوتی تھی۔ یہ تمام چیزیں امورِ اضافیہ (اجتہادی و تنظیمی اسالیب) میں سے ہیں، جن میں شریعت نے کوئی خاص پابندی نہیں لگائی۔ امورِ اضافیہ میں ہر مجلس کا اپنا ایک رنگ اور طریقہ کار ہوتا ہے، اس بنا پر کسی پر فتویٰ نہیں لگایا جا سکتا۔
ایک عام فہم مثال: آج ہم دیکھتے ہیں کہ حفظِ قرآن کی کلاس کے بچے جس قدر کثرت سے قرآنِ پاک کی تلاوت بار بار کرتے ہیں، بخاری و مسلم پڑھنے والے حدیث کے طالب علم اس کثرت سے قرآن نہیں پڑھ رہے ہوتے (کیونکہ اس وقت وہ حدیث پڑھ رہے ہوتے ہیں)۔ تو کیا کوئی عاقل یہ کہہ سکتا ہے کہ حدیث پڑھنے والے (معاذ اللہ) قرآن پڑھتے ہی نہیں یا قرآن کے منکر ہیں؟ ہرگز نہیں! بس ان کی مصروفیت کا رنگ الگ ہے۔ اسی طرح محدثین کو فقہاء کی مجلس میں وہ تکرارِ درود محسوس نہیں ہوئی جو ان کی اپنی مجالس کا خاصہ تھی، چنانچہ عبداللہ بن المبارک نے، جو محدثانہ طبیعت رکھتے تھے، جب فقہاء کا یہ اجتہادی طرزِ عمل دیکھا تو اپنا ایک تاثر بیان کر دیا۔ اس میں امام صاحب کی تنقیص کا کوئی پہلو نہیں ہے۔
3. غیر مقلدین کے لیے الزامی جواب (حلیۃ الاولیاء سے):
بالفرض اگر کوئی معترض تعصب کی عینک لگا کر اس بات کو قبول نہ کرے اور اسے عیب ہی قرار دے، تو ہم بطورِ الزامی جواب خود محدثین کی مجلس کا ایک واقعہ پیش کرتے ہیں جو امام ابو نعیم اصبہانی نے 'حلیۃ الاولیاء' (جزء 8، صفحہ 166) میں نقل کیا ہے:
حَدَّثَنَا أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَاكِرٍ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْحَوَارِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُسَامَةَ، يَقُولُ: مَرَرْتُ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ بِطَرَسُوسَ، وَهُوَ يُحَدِّثُ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنِّي لَأُنْكِرُ هَذِهِ الْأَبْوَابَ وَالتَّصْنِيفَ الَّذِي وَضَعْتُمُوهُ، مَا هَكَذَا أَدْرَكْنَا الْمَشْيَخَةَ، قَالَ: " فَأَضْرَبَ عَنِ الْحَدِيثِ نَحْوًا مِنْ عِشْرِينَ يَوْمًا، ثُمَّ مَرَرْتُ بِهِ وَقَدِ احْتَوَشُوهُ وَهُوَ يُحَدِّثُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: يَا أَبَا أُسَامَةَ شَهْوَةُ الْحَدِيثِ"۔
ترجمہ: "احمد بن ابی الحواری کہتے ہیں کہ میں نے ابو اسامہ (حماد بن اسامہ) کو کہتے سنا: میں طرسوس میں عبداللہ بن المبارک کے پاس سے گزرا جبکہ وہ حدیث بیان کر رہے تھے۔ میں نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! میں ان ابواب اور تصنیف کی سخت نکیر کرتا ہوں جو آپ لوگوں نے ایجاد کر لی ہے، ہم نے اپنے شیوخ کو اس طریقے پر نہیں پایا (کیونکہ پہلے احادیث بغیر ابواب کے غیر ترتیب شدہ بیان ہوتی تھیں، ابواب کے تحت ترتیب دینا بعد کی ایجاد ہے)۔ راوی کہتے ہیں کہ اس پر ابن المبارک نے تقریباً بیس دن تک حدیث بیان کرنا چھوڑ دیا۔ پھر جب میں دوبارہ گزرا تو لوگوں نے انہیں گھیرا ہوا تھا اور وہ حدیث بیان کر رہے تھے۔ میں نے سلام کیا تو انہوں نے فرمایا: اے ابو اسامہ! یہ حدیث کی شہوت (محبت و رغبت) ہے۔"
وجہِ استدلال: غور فرمائیے! اس حسن درجے کی روایت میں امام ابو اسامہ جیسے جلیل القدر محدث، امام ابنِ مبارک پر نکیر فرما رہے ہیں کہ "احادیث کو ابواب اور ابحاث کے تحت ترتیب دے کر بیان کرنا" ائمہِ سلف کا طریقہ نہیں تھا۔ اب اگر معترضین فقہاء کے امورِ اضافیہ اور تنظیمی طریقوں پر فتوے لگاتے ہیں، تو محدثین کا یہ ابواب قائم کرنا بھی تو ایک نیا اور اضافی طریقہ کار تھا، جس پر خود ان کے ہم عصروں نے نکیر کی۔ تو کیا معترضین اب محدثین کے اس طریقے کو بھی من گھڑت کہیں گے؟ چونکہ ہم حنفی حضرات "باادب" ہیں، ہم ائمہِ دین کا احترام کرتے ہیں اور اسے علمی و تنظیمی "امورِ اضافیہ" سمجھتے ہیں اس لیے اعتراض نہیں کرتے۔ کاش ہمارے مخالفین کو بھی اللہ تعالیٰ انصاف کی توفیق دے۔
فوائدِ جلیلہ
پہلا نکتہ: امام ابنِ مبارک کا امامِ اعظم سے عمر بھر کا تعلق
تاریخ گواہ ہے کہ امام عبداللہ بن المبارک رحمہ اللہ ہمیشہ امام ابو حنیفہ کے ارشد تلامذہ اور قدر دانوں میں شامل رہے اور ان کا امام صاحب کو مستقل طور پر ترک کرنا کہیں ثابت نہیں ہے۔ اگر امام ابنِ مبارک کو فقہاء کی یہ مجالس فی الواقع شریعت کے خلاف یا بری لگتیں، تو وہ صراحت کے ساتھ امام صاحب کی شاگردی اور ان کی فقہ کو خیرباد کہہ دیتے، جبکہ ایسا ہرگز نہیں ہوا۔
دوسرا نکتہ: قاضی کوفہ امام قاسم بن معن کی گواہی
امامِ اعظم کی مجلس کیسی ہوا کرتی تھی؟ اس کی حقیقی تصویر جلیل القدر صحابیِ رسول حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پوتے، کوفہ کے قاضی اور اپنے وقت کے مجتہد امام قاسم بن معن رحمہ اللہ کے اس قول سے معلوم ہوتی ہے: "لَوْدِدْتُ أَنَّ النَّاسَ لَمْ يَجِدُوا مَجْلِسًا أَنْفَعَ مِنْ مَجْلِسِ أَبِي حَنِيفَةَ" یعنی: "لوگوں نے کسی کی مجلس کو امام ابو حنیفہ کی مجلس سے زیادہ نفع بخش نہیں پایا۔"
تیسرا نکتہ: پرہیزگاری کی بنیاد پر علمِ حنفی کو نہ چھوڑنے کی گواہی
امام ابن أبي العوام نے اپنی کتاب میں حسن سند کے ساتھ یہ روایت نقل کی ہے:
حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: ثَنَا أَبِي قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدُ بْنِ حَمَّادٍ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ قَالَ: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: قَالَ يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ وَعَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ: مَا رَأَيْنَا أَحَدًا تَرَكَ عِلْمَ أَبِي حَنِيفَةَ تَوَرُّعًا۔ (فضائل أبي حنيفة، سند حسن)
ترجمہ:
"محمد بن سلیمان لوین، یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ اور عمرو بن ثابت کا قول نقل کرتے ہیں کہ: ہم نے کبھی کسی ایسے شخص کو نہیں دیکھا جس نے امام ابو حنیفہ کا علم اس وجہ سے چھوڑا ہو کہ وہ دین میں زیادہ پرہیزگار یا محتاط بننا چاہتا ہو۔"
خلاصۂ بحث
عقلِ سلیم کا تقاضا ہے کہ اگر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی مجالس (معاذ اللہ) ذکرِ خدا اور ذکرِ مصطفیٰ ﷺ سے خالی ہوتیں، تو تاریخِ اسلام کے اتنے بڑے بڑے زہاد، محدثین اور فقہاء ان کے شاگرد نہ بنتے، اور نہ ہی دنیا کے سب سے بڑے حصے میں مذہبِ حنفی کو یہ مقبولیتِ عامہ حاصل ہوتی۔ امام صاحب کی مجالسِ فقه دینِ مبین کی تشریح و توضیح کا مظہر تھیں جہاں رسول اللہ ﷺ کے ارشادات کی روح کو سمجھا جاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ائمہِ سلف کا ادب کرنے اور حسد و تعصب کی عینک اتار کر حق کو تسلیم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں