امامِ جلیل، قاضی القضاۃ حضرت امام ابو یوسف رحمہ اللہ پر امام بخاری رحمہ اللہ سے منسوب جرح کا علمی و تحقیقی جائزہ
امامِ جلیل، قاضی القضاۃ حضرت امام ابو یوسف رحمہ اللہ پر امام بخاری رحمہ اللہ سے منسوب جرح کا علمی و تحقیقی جائزہ مقدمہ: امام ابو یوسفؒ کا علمی مقام اور معترضین کا ہدف ائمۂ اسلام کی عظیم جماعت میں امام ابو یوسف یعقوب بن ابراہیمؒ کا نام نہایت احترام اور جلال کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ آپ امام اعظم کے جلیل القدر شاگرد، فقہِ حنفی کے اولین مدونین میں سے، اور خلافتِ عباسیہ کے پہلے قاضی القضاۃ تھے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ وہ عبقری شخصیت ہیں جن کی فقاہت اور ثقاہت پر امت کا سوادِ اعظم متفق رہا ہے۔ تاہم، بعض حلقوں کی جانب سے امام بخاری رحمہ اللہ کی کتب کے حوالے دے کر آپ کی شخصیت کو ہدفِ ملامت بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں ہم ان اعتراضات کا علمی و تحقیقی محاسبہ کریں گے تاکہ غبارِ تلبیس چھٹ جائے اور حق آشکار ہو سکے۔ پہلا اعتراض اور اس کی حقیقت امام بخاری رحمہ اللہ کی کتاب "التاریخ الکبیر" میں ہے: [١٢٦١٣] يَعْقوبُ بنُ إِبْراهيمَ، أَبُو يُوسُفَ، القَاضِي۔ سَمِعَ الشَّيبانيَّ۔ وَصاحِبُهُ تَرَكوهُ، يَعنِي أَبَا حَنيفةَ۔ ابو یوسف، جو ک...