امامِ اعظم ابو حنیفہؒ اور ردِّ قدریہ: ائمۂ علم و اربابِ تصنیف کی شہادتیں
امامِ اعظم حضرت نعمان بن ثابت ابو حنیفہؒ کی علمی میراث کے متعدد پہلوؤں میں سے ایک نہایت اہم اور لائقِ تحقیق پہلو، مذہبِ قدریہ کی معرفت اور اس کے اصول و مبانی کی تردید سے متعلق ہے۔ ائمۂ علم اور اربابِ تصنیف کی متعدد شہادتیں اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ امام صاحبؒ نہ صرف مسئلۂ قدر کے باب میں اہلِ سنت کے مسلک کے قائل و مدافع تھے، بلکہ قدریہ کے مذہب کے ابطال اور اس کے دلائل کے رد میں بھی ان سے علمی کاوشیں منقول ہیں۔ مزید برآں، اس نسبت کی تائید محض اصحابِ مذہب یا متأخرینِ احناف کی تحریرات تک محدود نہیں، بلکہ مختلف ادوار کے مؤرخین، اربابِ تراجم اور ناقدینِ عقائد نے بھی اس کا ذکر کیا ہے؛ حتیٰ کہ شیخ ابن تیمیہ اور بعض معاصر سلفی محققین کی تصریحات بھی اسی باب میں قابلِ استشہاد ہیں۔
ذیل میں قرونِ متتابعہ کے مؤلفین کی ان شہادتوں کو بالترتیب پیش کیا جاتا ہے، تاکہ اس نسبت کی تاریخی اساس، ناقلین کی وسعت اور اقوال کی دلالت بہ طریقِ استقراء واضح ہو سکے۔
۱۔ ابن الندیمؒ (متوفیٰ ۳۸۰ھ)
ابن الندیمؒ نے اپنی مشہور کتاب الفہرست میں امام ابو حنیفہؒ کی تصانیف کا ذکر کرتے ہوئے «کتاب الرد على القدرية» کو بھی ان کی کتب میں شمار کیا ہے۔ ان کے الفاظ یہ ہیں:
«وله من الكتب كتاب الفقه الأكبر كتاب رسالته إلى البستي كتاب العالم والمتعلم رواه عنه مقاتل كتاب الرد على القدرية والعلم برا وبحرا شرقا وغربا بعدا وقربا تدوينه رضي الله عنه» (الفہرست، تحقیق: ابراہیم رمضان، ۱/۲۵۱)
۲۔ امام عبد القاہر البغدادیؒ (متوفیٰ ۴۲۹ھ)
امام عبد القاہر بغدادیؒ نے أصول الدين میں فقہاء و اربابِ مذاہب کے متکلمین کا ذکر کرتے ہوئے امام ابو حنیفہؒ کی جانب قدریہ کے رد میں ایک تصنیف منسوب کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں: «وأول متكلميهم من الفقهاء وأرباب المذاهب أبو حنيفة والشافعي؛ فإن أبا حنيفة أَلَّف كتاباً في الرد على القدرية سماه "الفقه الأكبر"» (أصول الدين، ص ۳۰)
۳۔ شیخ ابن تیمیہ (متوفیٰ ۷۲۸ھ)
امام ابو حنیفہؒ کے مذہب اور مسئلۂ قدر میں ان کے موقف کے متعلق شیخ ابن تیمیہ کی تصریح خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ وہ منهاج السنة النبوية میں رقم طراز ہیں:
«فَإِنَّ أَبَا حَنِيفَةَ مِنَ الْمُقِرِّينَ بِالْقَدَرِ بِاتِّفَاقِ أَهْلِ الْمَعْرِفَةِ بِهِ وَبِمَذْهَبِهِ، وَكَلَامُهُ فِي الرَّدِّ عَلَى الْقَدَرِيَّةِ مَعْرُوفٌ فِي الْفِقْهِ الْأَكْبَرِ وَقَدْ بَسَطَ الْحِجَجَ فِي الرَّدِّ عَلَيْهِمْ بِمَا لَمْ يَبْسُطْهُ عَلَى غَيْرِهِمْ فِي هَذَا الْكِتَابِ» (منهاج السنة النبوية في نقض كلام الشيعة القدرية)
مفہوم: امام ابو حنیفہؒ مسئلۂ قدر کے اثبات و اقرار کے قائل تھے، اور ان کے مذہب و احوال سے واقف اہلِ علم کے نزدیک اس امر پر اتفاق منقول ہے۔ قدریہ کی تردید میں ان کا کلام الفقہ الأکبر میں معروف ہے، اور انہوں نے اس کتاب میں قدریہ کے رد پر ایسی تفصیل کے ساتھ دلائل قائم کیے ہیں جیسی تفصیل دوسروں کے رد میں اختیار نہیں کی۔
۴۔ بدر الدین ابن جماعہؒ (متوفیٰ ۷۳۳ھ)
علامہ بدر الدین ابن جماعہؒ نے إيضاح الدليل میں امام ابو حنیفہؒ کی تصانیف اور مسئلۂ استطاعت میں ان کے موقف کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے: «فَإِن ابا حنيفَة لَهُ كتاب فِي الرَّد على الْقَدَرِيَّة سَمَّاهُ الْفِقْه الْأَكْبَر » (إيضاح الدليل في قطع حجج أهل التعطيل، ۱/۲۲)
۵۔ محمد جمال الدین القاسمیؒ (متوفیٰ ۱۳۳۲ھ) سے منقول فہرستِ تصانیف
قواعد الأصول ومعاقد الفصول کے حاشیے میں محمد جمال الدین القاسمیؒ امام ابو حنیفہؒ کی تصانیف کے ضمن میں یہ عبارت نقل ہوئی ہے: «مصنفاته: المخارج في الفقه، والفقه الأكبر، الرد على القدرية، كتاب العالم والمتعلم، توفي سنة ١٥٠ هـ، وله سبعون سنة»
(قواعد الأصول ومعاقد الفصول، ۱/۸۵)
۶۔ اسماعیل پاشا بغدادیؒ (متوفیٰ ۱۳۳۹ھ)
اسماعیل پاشا بغدادیؒ نے اپنی معروف کتاب هدية العارفين میں امام ابو حنیفہؒ کے تذکرے کے تحت ان کی تصانیف کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے: من تصانيفه رسالته إلى عثمان البني قاضي البصرة. الفقه الأكبر مشهور وعليه شروح. كتاب الرد على القدرية.» (هدية العارفين أسماء المؤلفين وآثار المصنفين، ۲/۴۹۵)
۷۔ احمد حسن الزیاتؒ (متوفیٰ ۱۳۸۸ھ)
احمد حسن الزیاتؒ نے امام ابو حنیفہؒ کی تصانیف کے ضمن میں لکھا ہے: «وله من الكتب (كتاب الفقه الأكبر) - كتاب رسالته إلى اليسقى - كتاب العالم والمتعلم - رواه عنه مقاتل - كتاب الرد على القدرية - والعالم برًا وبحرًا، شرقا وغربا» (مجلة الرسالة، ۲۷/۴۵)
۸۔ عمر رضا کحالہؒ (متوفیٰ ۱۴۰۸ھ)
عمر رضا کحالہؒ نے اپنی کتاب معجم المؤلفين میں امام ابو حنیفہؒ کی تصانیف کے ضمن میں لکھا ہے:
«الرد على القدرية، والمخارج في الفقه رواية تلميذه أبي يوسف» (معجم المؤلفين، ۱۳/۱۰۴)
۹۔ ڈاکٹر محمد بن عبد الرحمن الخمیس: ایک معاصر سلفی محقق کی شہادت
معاصر سلفی محقق ڈاکٹر محمد بن عبد الرحمن الخمیس نے اپنی کتاب أصول الدين عند الإمام أبي حنيفة میں امام ابو حنیفہؒ کے موقفِ قدر اور قدریہ کی تردید کے بارے میں متعدد مقامات پر گفتگو کی ہے۔ سلفی محقق ڈاکٹر الخمیس لکھتے ہیں: «ولقد اهتم الإمام أبو حنيفة رحمه الله تعالى بالرد على بدعة القدرية اهتماما بالغا وخاصة في كتابه الفقه الأكبر؛ حيث يقول فيه: "وهو الذي قدر الأشياء وقضاها ولا يكون في الدنيا ولا في الآخرة شيء إلا بمشيئته وعلمه وقضائه وقدره".
ويقول: "وجميع أفعال العباد من الحركة والسكون كسبهم على الحقيقة، والله تعالى خالقها، وهي كلها بمشيئته وعلمه وقضائه وقدره".
وقرر هذا الطحاوي في بيان اعتقاد أهل السنة والجماعة على مذهب أبي حنيفة وصاحبيه حيث قال: "وكل شيء يجري بتقديره ومشيئته، ومشيته تنفذ، لا مشيئة للعباد، إلا ما شاء لهم، فما شاء لهم كان، وما لم يشأ لم يكن"» (أصول الدين عند الإمام أبي حنيفة، ۱/۱۸۲)
مفہوم: امام ابو حنیفہؒ نے بدعتِ قدریہ کی تردید کا خصوصی اہتمام فرمایا، بالخصوص الفقہ الأکبر میں۔ اس ضمن میں اللہ تعالیٰ کے علم، مشیت، قضا و قدر کے عموم، اور بندوں کے افعال کے بارے میں ان کا کلام نقل کیا گیا ہے؛ نیز امام طحاویؒ کے بیانِ عقیدہ سے اس مضمون کی تائید پیش کی گئی ہے۔
یہاں یہ نکتہ بھی لائقِ ذکر ہے کہ امامِ اعظم ابو حنیفہؒ کی جانب سے قدریہ کے مذہب کی تردید اور اس کے اصول و مبانی کے ابطال کے تناظر میں بعض اہلِ قدَر کی جانب سے آپ کے حق میں ناموافق اقوال و طعن آمیز کلمات بھی منقول ہیں۔ اس باب کی تفصیل، متعلقہ نقول اور ان کے مآخذ کی مراجعت کے لیے ذیل میں درج لنک ملاحظہ فرمائیں۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں