امام نسائی رحمہ اللہ کی امام ابو حنیفہؒ پرجرح
امام نسائی نے امام ابو حنیفہ کو لیس بالقوی کہا ہے۔
أخبرنا البرقاني، أخبرنا أحمد بن سعيد بن سعد، حدثنا عبد الكريم بن أحمد بن شعيب النسائي، حدثنا أبي قال: أبو حنيفة النعمان بن ثابت كوفي ليس بالقوي في الحديث.
جواب : بعض اہلِ علم کی طرف سے امام نسائیؒ کے حوالے سے امام ابو حنیفہؒ کے خلاف ایک جرح پیش کی جاتی ہے، جس کے الفاظ یوں نقل کیے جاتے ہیں: «وَأَبُو حَنِيفَةَ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ فِي الْحَدِيثِ، وَهُوَ كَثِيرُ الْغَلَطِ وَالْخَطَأِ عَلَى قِلَّةِ رِوَايَتِهِ»۔
جس تلین (یعنی تضعیف کی طرف اشارہ) کا ذکر کیا گیا ہے، وہ عبدالغنی بن سعید نے اپنی کتاب میں بیان کیا ہے۔ اس سلسلے میں ابو نصر الوائلی بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے منصور بن علی الانماطی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ: حسن بن رشِیق ثقہ ہے۔ ابو نصر کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا: لیکن عبدالغنی نے تو ان پر کلام کیا ہے۔ اس پر انہوں نے جواب دیا: میں تمہیں اس کی اصل حقیقت بتاتا ہوں؛ وہ ابو الحسین بن المنذر کو اپنے اصل نسخے دیا کرتا تھا، اس نے اسے سو اجزاء دیے، اور عبدالغنی وہاں اختصار کیا کرتا تھا، بس وہیں سے عبدالغنی کی طرف سے ان پر اعتراض واقع ہوا۔ ابو نصر الوائلی کہتے ہیں: اور میں نے ابو العباس النحّال کو یہ کہتے ہوئے بھی سنا کہ حسن بن رشِیق ثقہ ہے۔ میں نے ان سے کہا: لیکن عبدالغنی نے تو اس کے بارے میں کچھ کہا ہے۔ انہوں نے جواب دیا: مجھے معلوم نہیں کہ اس نے کیا کہا، میرے نزدیک تو وہ ثقہ ہے؛ ہاں دارقطنی نے اس پر صرف اصلاح (تصرف) کا اعتراض کیا ہے، کیونکہ وہ ہر ایک سے بات قبول کر لیتا تھا اور پھر اپنی کتاب میں اس کے مطابق تبدیلی کر دیتا تھا۔ (لسان الميزان - ت أبي غدة ٣/٤٦)
یہاں یہ بات بطورِ خاص واضح رہنی چاہیے کہ الحسن بن رشِیق کے وہم اور نقل میں تصرّف کا احتمال پیش کرنا کوئی ہمارا انوکھا یا منفرد دعویٰ نہیں، بلکہ یہی رائے معاصر اور معروف سلفی محقق عدنان العرعور نے بھی ایک دوسرے مقام پر اختیار کی ہے۔ انہوں نے الحسن بن رشِیق کے بارے میں صراحت کے ساتھ یہ موقف اختیار کیا ہے کہ اس سے نقل میں وہم، تصحیف اور تغیر واقع ہونے کا قوی امکان ہے۔
ولعلَّ الْوَهْمَ فيه من الحسن بن رشيق؛ فإنه وإن وَثَّقَهُ بعضُهم، فقد تكلَّم فيه عبدُ الغني بنُ سعيد، وأنكرَ عليه الدارقطنيُّ أنه كان يُصْلِحُ في أَصْلِهِ ويغيِّرُ فيه (اللسان ٣/ ٤٥)، فلعلَّ هذا مما غيَّرَهُ، والله أعلم.
ممکن ہے کہ اس میں وہم (غلطی) حسن بن رشیق کی طرف سے ہو؛ کیونکہ اگرچہ بعض اہلِ علم نے ان کی توثیق کی ہے، مگر عبد الغنی بن سعید نے ان پر کلام کیا ہے، اور دارقطنیؒ نے ان پر یہ اعتراض کیا کہ وہ اپنے اصل نسخے میں اصلاح کرتے اور اس میں تبدیلی کر دیا کرتے تھے(لسان المیزان 3/45) لہٰذا ممکن ہے کہ یہ بھی انہی تبدیلیوں میں سے ہو، واللہ اعلم۔ (ديوان السنة - قسم الطهارة ٣/٥٦٧ — عدنان العرعور )
لہٰذا الحسن بن رشِیق کے بارے میں وہم کا دعویٰ نہ تو تعصب پر مبنی ہے اور نہ ہی محض امام ابو حنیفہؒ کے دفاع میں گھڑا گیا کوئی نیا موقف، بلکہ یہ وہی بات ہے جسے اہلِ تحقیق—خواہ وہ کسی بھی منہج سے تعلق رکھتے ہوں—دلائل کی بنیاد پر تسلیم کرتے آئے ہیں۔ اس ضمن میں سلفی محقق عدنان العرعور کے الفاظ خود اس حقیقت پر گواہ ہیں، جن کا ملاحظہ اہلِ علم کے لیے نہایت مفید اور فیصلہ کن ہے۔
نسائی کی اصطلاح لیس بقوی اور لیس بالقوی کا مطلب
''لیس بالقوی'' یا ''لیس بذاک القوی'' معمولی قسم کی جرح ہے، امام نسائی نے کئی رواۃ کے بارے میں'' لیس بالقوی'' کا لفظ استعمال کیا ہے:
1-سفیان بن حسین کے بارے میں کہتے ہیں: سفيان في الزهري ليس بالقوي (سفیان زہری سے روایت میں زیادہ قوی نہیں ہیں)۔
2- عمروبن ابی عمرو کے بارے میں کہتے ہیں: ليس بالقوي في الحديث، جب کہ ان سے امام مالک نے روایت کی ہے، اور یہ معلوم ہے کہ امام مالک ثقہ ہی سے روایت کرتے ہیں، پتہ چلا کہ یہ ہلکی جرح ہے۔
3-حافظ ابن حجر مقدمۃ الفتح میں احمد بن بشیر الکوفی کے بارے میں جرح نقل کرتے ہیں: قال النسائي: ليس بذاك القوي اس کے بعد کہتے ہیں: نسائی کی تضعیف سے پتہ چلتا ہے کہ یہ حافظ نہیں ہیں (386)۔
4- حافظ ابن حجر حسن بن الصباح البزار کے ترجمہ میں نسائی کی کتاب الکنی سے نقل کرتے ہیں: ليس بالقوي پھر کہتے ہیں: میں کہتا ہوں یہ ہلکی جرح ہے (ہدی الساری 397)۔
یہ مضمون بھی غیر مقلدین کی ویب سائٹ سے لیا گیا ہے
نسائی کی اصطلاح لیس بقوی اور لیس بالقوی کا مطلب
5. غیر مقلد ارشاد الحق اثری ، غیر مقلد شیخ عبدالرحمان بن یحییٰ المعلمی کے حوالے سے لکھتا ہیکہ : ’’کلمۃ لیس بقوي تنفي القوۃ مطلقاً وإن لم تثبت الضعف مطلقاً وکلمۃ لیس بالقوي إنما تنفي الدرجۃ الکاملۃ من القوۃ"
غیر مقلد اثری لکھتا ہیکہ : " جس راوی کے متعلق ’’لیس بالقوي‘‘ کا لفظ بولا جاتا ہے تو اس کی روایت درجۂ حسن سے کم نہیں ہوتی۔ " (مقالات ارشاد الحق اثری جلد4 - صفحہ 173 ، التنکیل ١/۲۳۲)
6. کفایت اللہ سنابلی غیر مقلد لکھتا ہیکہ " یہاں پر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ لیس بالقوی گر چہ توثیق نہیں ہے لیکن اگر جس راوی سے متعلق یہ تبصرہ مل جائے اور اس راوی کی دیانت وامانت کے لحاظ سے اہل علم نے تعریف کی ہو گرچہ صراحتا لفظ ثقہ نہ استعمال کیا تو ایسا راوی کم از کم از حسن الحدیث ضرور ہے "
لہذا معلوم ہوا لیس بالقوی کی جرح امام ابو حنیفہ کی ثقاہت کو مضر ہی نہیں ، کیونکہ متشدد ناقدین جیسے امام شعبہ اور یحیی بن معین نے امام ابو حنیفہ کی توثیق کی ہے ، لہذا ان کی توثیق کے بعد کسی متشدد جارح کی ہلکی جرح کیسے امام ابو حنیفہ کو ضعیف ثابت کر سکتی ہے ؟
لیس بالقوی کی ہلکی سی جرح
جواب نمبر 2: امام نسائی نے آپ سے نسائی میں روایت لی ہے
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ النُّعْمَانِ يَعْنِي أَبَا حَنِيفَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «لَيْسَ عَلَى مَنْ أَتَى بَهِيمَةً حَدٌ» قال: هذا غير صحيح وعاصم بن عمر ضعيف في الحديث.
(أخرجه النسائي في الكبرى ٧٣٤١)
اس روایت میں انہوں نے امام ابو حنیفہ پر کوئی کلام نہیں کیا جبکہ امام ابو حنیفہ کے شیخ عاصم پر کلام کیا ہے۔ امام نسائی کا صرف امام ابو حنیفہ کے شیخ پر کلام کرنا اور امام ابو حنیفہ پر کلام نہ کرنا ، اس بات کا قرینہ ہے کہ ممکن ہے انہوں نے لیس بالقوی کی ہلکی سی جرح سے بھی رجوع کر لیا تھا واللہ اعلم۔
اس مقام پر یہ بات خاص طور پر قابلِ توجہ ہے کہ امام شعبہؒ اور امام یحییٰ بن معینؒ—جو جرح و تعدیل میں نہایت سخت اور متشدّد شمار ہوتے ہیں—دونوں نے امام ابو حنیفہؒ کی توثیق کی ہے۔ مزید برآں، خود غیر مقلدین کا مسلمہ اصول یہ ہے کہ اگر دو محدثین کے اقوال میں تعارض واقع ہو جائے تو جو امام زمانے کے اعتبار سے قریب العہد اور مقام کے اعتبار سے قریب البلد ہو، اس کی بات کو ترجیح دی جائے گی۔ اس اصول کی روشنی میں دیکھا جائے تو امام شعبہؒ اور امام یحییٰ بن معینؒ نہ صرف امام ابو حنیفہؒ کے زمانے کے زیادہ قریب ہیں بلکہ ان کے علمی ماحول اور معاصر فضاء سے بھی براہِ راست واقف ہیں۔ اس کے برخلاف امام نسائیؒ زمانی اعتبار سے بعد کے دور سے تعلق رکھتے ہیں۔ لہٰذا اصولی طور پر امام نسائیؒ کی طرف منسوب جرح—بالفرض ثبوت کے باوجود—امام شعبہؒ اور امام یحییٰ بن معینؒ جیسی جلیل القدر اور متشدّد توثیق کرنے والی ہستیوں کے مقابلے میں قابلِ ترجیح نہیں رہتی، بلکہ اصولِ جرح و تعدیل کی رو سے امام ابو حنیفہؒ کی توثیق ہی راجح اور معتبر قرار پاتی ہے۔
امام ابو حنیفہؒ کی حدیث میں ثقاہت
امام ابو حنیفہؒ کی علمی عظمت اور حدیث میں ثقاہت پر جن اکابر محدثین و ائمہ نے تعریف کی ہے، ان میں امام شعبہؒ، امام یزید بن ہارونؒ، امام حمّاد بن زیدؒ، امام ابو نعیم فضل بن دکینؒ، زہیر بن معاویہؒ، امام سفیان بن عیینہؒ، امام وکیع بن جراحؒ، مکی بن ابراہیم ، امام یحییٰ بن زکریاؒ، امام ترمذیؒ اور امام اعمشؒ کے اسماء نمایاں طور پر ذکر ہوتے ہیں۔ ان حضرات نے نہ صرف آپ کی فقہی بصیرت اور فقاہت کی گہرائی کی تعریف کی بلکہ آپ کی حدیث میں ثقاہت، صدق، ضبط اور قوتِ فہم کو بھی واضح طور پر سراہا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کو صرف ایک فقیہ نہیں بلکہ ایک معتبر محدث کے طور پر بھی امت کے جلیل القدر ائمہ نے تسلیم کیا ہے۔ قارئین دیکھیں : "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں