نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

امام نسائی رحمہ اللہ کی امام ابو حنیفہؒ پرجرح


امام نسائی رحمہ اللہ کی امام ابو حنیفہؒ پرجرح


امام نسائی نے امام ابو حنیفہ کو لیس بالقوی کہا ہے۔


 أخبرنا البرقاني، أخبرنا أحمد بن سعيد بن سعد، حدثنا عبد الكريم بن أحمد بن شعيب النسائي، حدثنا أبي قال: أبو حنيفة النعمان بن ثابت كوفي ليس بالقوي في الحديث.


جواب : بعض اہلِ علم کی طرف سے امام نسائیؒ کے حوالے سے امام ابو حنیفہؒ کے خلاف ایک جرح پیش کی جاتی ہے، جس کے الفاظ یوں نقل کیے جاتے ہیں: «وَأَبُو حَنِيفَةَ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ فِي الْحَدِيثِ، وَهُوَ كَثِيرُ الْغَلَطِ وَالْخَطَأِ عَلَى قِلَّةِ رِوَايَتِهِ»۔


الفاظِ جرح کی تقسیم اور مصادر کی تحقیق

اس منسوب جرح کے الفاظ دو حصّوں میں تقسیم ہیں۔ پہلا حصہ یہ ہے: «وَأَبُو حَنِيفَةَ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ فِي الْحَدِيثِ»۔ یہ الفاظ امام نسائیؒ سے ثابت ہیں اور خود ان کی تصانیف میں پائے جاتے ہیں (الضعفاء والمتروكون للنسائي ١/‏١٠٠ ، تسمية فقهاء الأمصار ١/‏١٢٨ )۔ تاریخ بغداد میں بھی یہ عبارت متصل سند کے ساتھ موجود ہے (تاريخ بغداد - ت بشار ١٥/‏٥٨٢ )، اور امام ابنِ عدیؒ نے بھی اپنی کتاب الکامل میں صرف اسی حد تک ان الفاظ کو نقل کیا ہے(الكامل في ضعفاء الرجال ت السرساوي ، 10/123)۔ یہاں تک روایت کا معاملہ واضح اور متعین ہے۔

دوسرا حصہ یہ ہے: «وَهُوَ كَثِيرُ الْغَلَطِ وَالْخَطَأِ عَلَى قِلَّةِ رِوَايَتِهِ»۔ یہ اضافہ امام نسائیؒ کے تمام مصادر میں عام نہیں، بلکہ صرف ایک ہی رسالے میں منقول ہے، یعنی: تسمیۃ الضعفاء والمتروکین والثقات ممن حمل عنہم الحدیث من أصحاب أبي حنیفة۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اس اضافے کی نسبت کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔

راوی کی حیثیت اور وہم کا احتمال

یہ اضافہ امام نسائیؒ سے ان کے شاگرد الحسن بن رشِیق کے واسطے سے نقل ہوا ہے۔ اگرچہ الحسن بن رشِیق ثقہ ہیں، لیکن ان پر جرح بھی وارد ہوئی ہے، اور یہی جرح اس مقام پر نہایت اہمیت رکھتی ہے۔
٩٢٧ - الحسن بن رشيق العسكري، مصري. * قال الذهبي: أنكر عليه الدَّارَقُطْنِيّ أنه كان يصلح في أصله ويغير. 

 امام ذہبیؒ لکھتے ہیں کہ دارقطنیؒ نے ان پر یہ اعتراض کیا کہ وہ اپنے اصل نسخے میں اصلاح کرتے تھے اور اس میں تبدیلی کر دیا کرتے تھے (المیزان 1/1846)۔
اس سے یہ قوی احتمال پیدا ہوتا ہے کہ مذکورہ اضافہ الحسن بن رشِیق کا وہم یا نقل کی لغزش ہو، کیونکہ اگر یہ الفاظ واقعی امام نسائیؒ کے ثابت شدہ قول ہوتے تو ان کے دیگر مصادر میں بھی ضرور منقول ہوتے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ 

الحسن بن رشِیق کے بارے میں یہ بات کہ وہ ہر ایک سے بات قبول کر لیتا تھا اور پھر اسی کے مطابق اپنی کتاب میں تبدیلی کر دیتا تھا، محض ایک فرد کا انفرادی تاثر نہیں، بلکہ اس پر متعدد اہلِ علم نے کلام کیا ہے؛ چنانچہ امام دارقطنیؒ کی طرف منسوب یہ اعتراض، امام ذہبیؒ کی المیزان میں مذکور تصریح، عبدالغنی بن سعیدؒ کی تنبیہ، اور ابو نصر الوائلی و ابو العباس النحّال جیسے اہلِ روایت کے اقوال—سب اس امر کی طرف رہنمائی کرتے ہیں کہ اس پہلو میں الحسن بن رشِیق پر کلام معروف و منقول ہے، جس کے مزید حوالہ جات کتبِ جرح و تعدیل میں ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں۔
والتليين الذي أشار اليه قاله عبد الغني بن سعيد في كتابه فذكر أبو نصر الوائلي أنه سمع منصور بن علي الأنماطي يقول: الحسن بن رشيق ثقة قال فقلت له: فعبد الغني قد أطلق عليه فقال: أنا أخبرك أمره كان يعطي أبا الحسين بن المنذر أصوله أعطاه مائة جزء وكان يقصر، عَن عَبد الغني فهناك وقع فيه. قال الوائلي: وسمعت أبا العباس النحال يقول: الحسن بن رشيق ثقة فقلت له: فعبد الغني قال فيه قال: ما أعرف ما قال هو ثقة وإنما أنكر الدارقطني عليه الإصلاح فإنه كان يقبل من كل فيغير كتابه.

جس تلین (یعنی تضعیف کی طرف اشارہ) کا ذکر کیا گیا ہے، وہ عبدالغنی بن سعید نے اپنی کتاب میں بیان کیا ہے۔ اس سلسلے میں ابو نصر الوائلی بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے منصور بن علی الانماطی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ: حسن بن رشِیق ثقہ ہے۔ ابو نصر کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا: لیکن عبدالغنی نے تو ان پر کلام کیا ہے۔ اس پر انہوں نے جواب دیا: میں تمہیں اس کی اصل حقیقت بتاتا ہوں؛ وہ ابو الحسین بن المنذر کو اپنے اصل نسخے دیا کرتا تھا، اس نے اسے سو اجزاء دیے، اور عبدالغنی وہاں اختصار کیا کرتا تھا، بس وہیں سے عبدالغنی کی طرف سے ان پر اعتراض واقع ہوا۔ ابو نصر الوائلی کہتے ہیں: اور میں نے ابو العباس النحّال کو یہ کہتے ہوئے بھی سنا کہ حسن بن رشِیق ثقہ ہے۔ میں نے ان سے کہا: لیکن عبدالغنی نے تو اس کے بارے میں کچھ کہا ہے۔ انہوں نے جواب دیا: مجھے معلوم نہیں کہ اس نے کیا کہا، میرے نزدیک تو وہ ثقہ ہے؛ ہاں دارقطنی نے اس پر صرف اصلاح (تصرف) کا اعتراض کیا ہے، کیونکہ وہ ہر ایک سے بات قبول کر لیتا تھا اور پھر اپنی کتاب میں اس کے مطابق تبدیلی کر دیتا تھا۔ (لسان الميزان - ت أبي غدة ٣/‏٤٦)


الحسن بن رشيق المصري.  حافظ. تكلم فيه عبد الغني. [ديوان الضعفاء (ص ٨٠)].
• الحسن بن رشيق العسكري.  مشهور. تكلم فيه عبد الغني. [المغني في الضعفاء (١/ ٢٤٧)].
• الحسن بن رشيق العسكري.  مصري مشهور، عالى السند، لينه الحافظ عبد الغني بن سعيد قليلا. ووثقه جماعة. وأنكر عليه الدارقطني أنه كان يصلح في أصله ويغير. [ميزان الاعتدال (١/ ٤٤٩)].

یہاں یہ بات بطورِ خاص واضح رہنی چاہیے کہ الحسن بن رشِیق کے وہم اور نقل میں تصرّف کا احتمال پیش کرنا کوئی ہمارا انوکھا یا منفرد دعویٰ نہیں، بلکہ یہی رائے معاصر اور معروف سلفی محقق عدنان العرعور نے بھی ایک دوسرے مقام پر اختیار کی ہے۔ انہوں نے الحسن بن رشِیق کے بارے میں صراحت کے ساتھ یہ موقف اختیار کیا ہے کہ اس سے نقل میں وہم، تصحیف اور تغیر واقع ہونے کا قوی امکان ہے۔

ولعلَّ الْوَهْمَ فيه من الحسن بن رشيق؛ فإنه وإن وَثَّقَهُ بعضُهم، فقد تكلَّم فيه عبدُ الغني بنُ سعيد، وأنكرَ عليه الدارقطنيُّ أنه كان يُصْلِحُ في أَصْلِهِ ويغيِّرُ فيه (اللسان ٣/ ٤٥)، فلعلَّ هذا مما غيَّرَهُ، والله أعلم.

ممکن ہے کہ اس میں وہم (غلطی) حسن بن رشیق کی طرف سے ہو؛ کیونکہ اگرچہ بعض اہلِ علم نے ان کی توثیق کی ہے، مگر عبد الغنی بن سعید نے ان پر کلام کیا ہے، اور دارقطنیؒ نے ان پر یہ اعتراض کیا کہ وہ اپنے اصل نسخے میں اصلاح کرتے اور اس میں تبدیلی کر دیا کرتے تھے(لسان المیزان 3/45) لہٰذا ممکن ہے کہ یہ بھی انہی تبدیلیوں میں سے ہو، واللہ اعلم۔ (ديوان السنة - قسم الطهارة ٣/‏٥٦٧ — عدنان العرعور )


لہٰذا الحسن بن رشِیق کے بارے میں وہم کا دعویٰ نہ تو تعصب پر مبنی ہے اور نہ ہی محض امام ابو حنیفہؒ کے دفاع میں گھڑا گیا کوئی نیا موقف، بلکہ یہ وہی بات ہے جسے اہلِ تحقیق—خواہ وہ کسی بھی منہج سے تعلق رکھتے ہوں—دلائل کی بنیاد پر تسلیم کرتے آئے ہیں۔ اس ضمن میں سلفی محقق عدنان العرعور  کے الفاظ خود اس حقیقت پر گواہ ہیں، جن کا ملاحظہ اہلِ علم کے لیے نہایت مفید اور فیصلہ کن ہے۔

اسانید کا ضعف اور مجہول راوی

مزید یہ کہ جس رسالے (تسمیۃ الضعفاء والمتروکین والثقات ممن حمل عنہم الحدیث من أصحاب أبي حنیفة) میں یہ اضافہ پایا جاتا ہے، اس کی دو اسانید ہیں۔
1. مُحَمَّد بْن الفضل بْن علي زيد الفزاري سمع منه تسمية الضعفاء والمتروكين لأبي عَبْد الرحمن النسائي بروايته عن حمزة بْن هبة اللَّه الحسني إجازة عن أبي بكر أَحْمَد بْن منصور المغربي عن أبي علي الحسن بْن حفص القضاعي عن أبي الحسن بْن رشيق المصري عن المصنف. (التدوين في أخبار قزوين ١/‏٣٣٩ )
 ایک سند الحسن بن رشِیق کے واسطے سے ہے، جس پر وہم اور تصرف کا احتمال بیان ہو چکا۔ دوسری سند امام نسائیؒ کے بیٹے کے واسطے سے ہے، 
2. وسمع تسمية الضعفاء والمتروكين لأبي عَبْد الرحمن النسائي من إسماعيل الطوسي أيضا بروايته عن أبي عَبْد اللَّه الكامخي عن أبي بكر البرقاني عن أَحْمَد بْن سعيد وكيل دعلج عن أبي موسى عَبْد الكريم بْن أبي عَبْد الرحمن النسائي عن أبيه المصنف. (التدوين في أخبار قزوين ١/‏٢٤٣)
مگر امام نسائیؒ کے بیٹے کی صریح توثیق کسی محدث سے ثابت نہیں، اس بنا پر وہ مجہول ہیں۔
غیر مقلد زبیر علی زئی لکھتا ہے کہ  : " امام نسائی کے شاگرد اور بیٹے ابو موسی عبدالکریم بن احمد بن شعیب النسائی کے حالات نہیں ملے" (فتاوی علمیہ جلد1۔كتاب الجنائز- صفحہ549)
غیر مقلد کفایت اللہ سنابلی لکھتا ہیکہ : 
" اس سند میں ایک راوی  "أبوموسی ،عبدالکریم بن أحمدبن شعیب ،النسائی''ہے ،مجھے کسی کتاب میں اس کی توثیق نہیں ملی،لہٰذایہ مجہول الحال ہے"(مسجد میں دوسری جماعت سے متعلق ایک روایت کا درجہ ، غیر مقلد کفایت اللہ سنابلی)

 جب دونوں اسانید اس درجے کی کمزوری رکھتی ہوں تو «وَهُوَ كَثِيرُ الْغَلَطِ وَالْخَطَأِ عَلَى قِلَّةِ رِوَايَتِهِ» کے الفاظ ازخود مشکوک اور غیر قابلِ اعتماد قرار پاتے ہیں۔

عملی شہادت: سننِ نسائی میں روایت
امام نسائیؒ کا امام ابو حنیفہؒ سے روایت لینا اور جرح نہ کرنا
تیسرا اور نہایت قوی نکتہ یہ ہے کہ امام نسائیؒ نے خود اپنی کتاب سننِ نسائی میں امام ابو حنیفہؒ سے روایت لی ہے اور وہاں کسی قسم کی جرح بیان نہیں کی۔ اگر امام ابو حنیفہؒ پر واقعی ایسی مفسِّر جرح—یعنی “کثیر الغلط والخطأ”—موجود ہوتی تو امام نسائیؒ اس کا ذکر ضرور کرتے، مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔
یہاں یہ بھی ملحوظ رہے کہ سننِ نسائی کا جو نسخہ ہمارے ہاں متداول ہے، وہ امام نسائیؒ کے شاگرد ابنُ الاحمر کے واسطے سے منقول ہے، جنہوں نے 299ھ میں یہ کتاب امام نسائیؒ سے سنی (المقفى الكبير ٧/‏١٥٢ ) ، جبکہ امام نسائیؒ کی وفات 303ھ میں ہوئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امام نسائیؒ کے آخری دور تک سننِ نسائی میں امام ابو حنیفہؒ کی روایت موجود رہی اور اس پر کوئی جرح نہیں کی گئی۔

نتیجہ
ان تمام تفصیلات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ «وَهُوَ كَثِيرُ الْغَلَطِ وَالْخَطَأِ عَلَى قِلَّةِ رِوَايَتِهِ» کے الفاظ سنداً اور متناً مشکوک ہیں اور امام نسائیؒ کی طرف ثابت نہیں۔ رہا پہلا جملہ

«لَيْسَ بِالْقَوِيِّ فِي الْحَدِيثِ» تو وہ اپنی حقیقت میں کوئی مفسِّر جرح نہیں، جو امام ابو حنیفہؒ کی فقہی امامت، ضبطِ فقہ اور جلالتِ قدر کے منافی نہیں۔  خود غیر مقلدین تسلیم کرتے ہیں کہ لیس بالقوي کسی راوی سے صرف اعلی درجےکی ثقاہت کی نفی کرتا ہے جبکہ وہ راوی ثقہ ہی کیوں نہ ہو، اور اس کی حدیث حسن ہو نے کے منافی نہیں ہوتی۔ 

نسائی کی اصطلاح لیس بقوی اور لیس بالقوی کا مطلب

''لیس بالقوی'' یا ''لیس بذاک القوی'' معمولی قسم کی جرح ہے، امام نسائی نے کئی رواۃ کے بارے میں'' لیس بالقوی'' کا لفظ استعمال کیا ہے:

1-سفیان بن حسین کے بارے میں کہتے ہیں: سفيان في الزهري ليس بالقوي (سفیان زہری سے روایت میں زیادہ قوی نہیں ہیں)۔

2- عمروبن ابی عمرو کے بارے میں کہتے ہیں: ليس بالقوي في الحديث، جب کہ ان سے امام مالک نے روایت کی ہے، اور یہ معلوم ہے کہ امام مالک ثقہ ہی سے روایت کرتے ہیں، پتہ چلا کہ یہ ہلکی جرح ہے۔

3-حافظ ابن حجر مقدمۃ الفتح میں احمد بن بشیر الکوفی کے بارے میں جرح نقل کرتے ہیں: قال النسائي: ليس بذاك القوي اس کے بعد کہتے ہیں: نسائی کی تضعیف سے پتہ چلتا ہے کہ یہ حافظ نہیں ہیں (386)۔

4- حافظ ابن حجر حسن بن الصباح البزار کے ترجمہ میں نسائی کی کتاب الکنی سے نقل کرتے ہیں: ليس بالقوي پھر کہتے ہیں: میں کہتا ہوں یہ ہلکی جرح ہے (ہدی الساری 397)۔

یہ مضمون بھی غیر مقلدین کی ویب سائٹ سے لیا گیا ہے 

نسائی کی اصطلاح لیس بقوی اور لیس بالقوی کا مطلب 

5. غیر مقلد ارشاد الحق اثری ، غیر مقلد شیخ عبدالرحمان بن یحییٰ المعلمی کے حوالے سے لکھتا ہیکہ :  ’’کلمۃ لیس بقوي تنفي القوۃ مطلقاً وإن لم تثبت الضعف مطلقاً وکلمۃ لیس بالقوي إنما تنفي الدرجۃ الکاملۃ من القوۃ"

غیر مقلد اثری لکھتا ہیکہ :  " جس راوی کے متعلق ’’لیس بالقوي‘‘ کا لفظ بولا جاتا ہے تو اس کی روایت درجۂ حسن سے کم نہیں ہوتی۔ "  (مقالات ارشاد الحق اثری جلد4 - صفحہ 173 ، التنکیل ١/۲۳۲)

6. کفایت اللہ سنابلی غیر مقلد لکھتا ہیکہ  " یہاں پر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ لیس بالقوی گر چہ توثیق نہیں ہے لیکن اگر جس راوی سے متعلق یہ تبصرہ مل جائے اور اس راوی کی دیانت وامانت کے لحاظ سے اہل علم نے تعریف کی ہو گرچہ صراحتا لفظ ثقہ نہ استعمال کیا تو ایسا راوی کم از کم از حسن الحدیث ضرور ہے "

لنک : 


لہذا معلوم ہوا لیس بالقوی کی جرح امام ابو حنیفہ کی ثقاہت کو مضر ہی نہیں ، کیونکہ متشدد ناقدین جیسے امام شعبہ اور یحیی بن معین نے امام ابو حنیفہ کی توثیق کی ہے ، لہذا ان کی توثیق کے بعد کسی متشدد جارح کی ہلکی جرح کیسے امام ابو حنیفہ کو ضعیف ثابت کر سکتی ہے ؟

لیس بالقوی کی  ہلکی سی  جرح


جواب نمبر 2:  امام نسائی نے آپ سے نسائی میں روایت لی ہے 

 أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ النُّعْمَانِ يَعْنِي أَبَا حَنِيفَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «لَيْسَ عَلَى مَنْ أَتَى بَهِيمَةً حَدٌ»  قال: هذا غير صحيح وعاصم بن عمر ضعيف في الحديث.

(أخرجه النسائي في الكبرى ٧٣٤١)

اس روایت میں انہوں نے امام ابو حنیفہ پر کوئی کلام نہیں کیا جبکہ امام ابو حنیفہ کے شیخ عاصم پر کلام کیا ہے۔ امام نسائی کا صرف امام ابو حنیفہ کے شیخ پر کلام کرنا اور امام ابو حنیفہ پر کلام نہ کرنا ، اس بات کا قرینہ ہے کہ ممکن ہے انہوں نے لیس بالقوی کی ہلکی سی جرح سے بھی رجوع کر لیا تھا واللہ اعلم۔

بالفرض جرحِ مفسِّر تسلیم بھی کر لی جائے...

بالفرض اگر کسی درجے میں یہ بات تسلیم بھی کر لی جائے کہ امام نسائیؒ نے امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں جرحِ مفسِّر کی ہے، یعنی ان کے نزدیک واقعی یہ الفاظ ثابت ہوں: «وَهُوَ كَثِيرُ الْغَلَطِ وَالْخَطَأِ» تو بھی یہ جرح اصولِ جرح و تعدیل کے معیار پر کوئی خاص وزن اور اعتبار نہیں رکھتی۔
غیر مقلدین کی تصریحات: امام نسائیؒ جرح میں متشدّد ہیں

 اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ امام نسائیؒ جرح میں متشدّد شمار کیے جاتے ہیں، اور یہ بات خود غیر مقلد کی تصریحات سے بھی ثابت ہے۔ چنانچہ اس امر کو غیر مقلد مصنفین نے اپنی کتب میں تسلیم کیا ہے، جیسا کہ مقالات مبارکپوری (ص 220)، خیر الکلام (ص 46) اور انوار المصابیح (ص 113) میں صراحت موجود ہے۔
قلتِ روایات کا احتمال: امام نسائیؒ تک محدود مواد کا پہنچنا

یہ بات بھی پوری طرح ممکن اور قرینِ قیاس ہے کہ امام نسائیؒ تک امام ابو حنیفہؒ کی بہت کم روایات پہنچی ہوں، اور اسی محدود مواد کی بنیاد پر انہوں نے یہ تعبیر اختیار کی ہو کہ امام ابو حنیفہؒ سے روایت کم کی گئی ہے۔

غلطی درمیانی راوی کی، الزام امام ابو حنیفہؒ پر؟

اسی طرح یہ احتمال بھی نہایت قوی ہے کہ امام نسائیؒ تک امام ابو حنیفہؒ کی وہ روایات پہنچی ہوں جن کی اسناد میں امام ابو حنیفہؒ اور امام نسائیؒ کے درمیان کوئی ضعیف راوی واقع ہو گیا ہو، جس کے نتیجے میں سند کمزور ہو گئی ہو۔ ایسی صورت میں ضعف کا سبب وہ درمیانی راوی بنتا ہے، نہ کہ امام ابو حنیفہؒ خود۔ لہٰذا اگر کسی ایسی روایت میں ضعف پایا جائے تو اس کا الزام امام ابو حنیفہؒ پر عائد کرنا اصولِ حدیث کے سراسر خلاف ہے۔

اس کی ایک واضح مثال ہمیں محدث ابنِ عدیؒ کے کلام میں ملتی ہے۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ امام ابو حنیفہؒ سے تقریباً تین سو روایات منقول ہیں، جن میں سے اکثر صحیح نہیں ہیں۔ لیکن جب ہم اس دعوے کو امام ابنِ حبانؒ کی تصریح کے ساتھ ملا کر دیکھتے ہیں تو حقیقت بالکل مختلف صورت میں سامنے آتی ہے۔ امام ابنِ حبانؒ نے أباء بن جعفر، أبو سعيد راوی کا ذکر کیا ہے، وہی وہ شخص ہے جس نے امام ابو حنیفہؒ کی طرف تین سو کے قریب من گھڑت روایات باندھ دیں۔ قارئین دیکھیں  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


اعتراض نمبر 51 : امام ابن عدی الجرجانیؒ (م 365ھ) اپنی کتاب الكامل میں کہتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ کی اکثر روایات صحیح نہیں ہیں اور صرف پندرہ صحیح ہیں اور ان کی روایات کو قبول کرنا اہلِ حدیث کے لیے مشکل ہے۔


اس تقابل سے صاف واضح ہوتا ہے کہ جن روایات کو بعض محدثین نے امام ابو حنیفہؒ کی طرف منسوب کر کے ان پر ضعف یا عدمِ صحت کا حکم لگایا، درحقیقت وہ امام ابو حنیفہؒ کی خطا نہیں تھیں بلکہ کسی دوسرے راوی کی جعل سازی اور خیانت کا نتیجہ تھیں۔ اس کے باوجود ان روایات کی کمزوری کا بوجھ امام ابو حنیفہؒ پر ڈال دیا گیا، جو نہ اصولِ حدیث کے مطابق ہے اور نہ علمی دیانت کے تقاضوں سے ہم آہنگ۔ یوں یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ بعض مقامات پر محدثین سے بھی یہ لغزش ہوئی ہے کہ انہوں نے کسی اور راوی کی غلطی یا جھوٹ کو امام ابو حنیفہؒ کے کھاتے میں ڈال دیا، حالانکہ صحیح اور منصفانہ تحقیق اس کی تائید نہیں کرتی۔

ناقدین کی لغزشیں اور امام ابو حنیفہؒ کی براءت


اگر بالفرض امام نسائیؒ کا یہ فرمان واقعی ان سے ثابت بھی مان لیا جائے کہ امام ابو حنیفہؒ کثرت سے غلطی کرتے تھے، تو اصولاً لازم تھا کہ وہ ان مخصوص روایات کی نشاندہی بھی کرتے جن میں یہ غلطیاں واقع ہوئیں، حالانکہ امام نسائیؒ نے ایسی کسی روایت کا نہ ذکر کیا اور نہ مثال پیش کی۔ اس کے برعکس امام ابنِ عدیؒ، دارقطنیؒ اور جوزقانیؒ نے بعض روایات ذکر کر کے ان میں امام ابو حنیفہؒ پر خطا یا تفرد کا دعویٰ کیا ہے، مگر جب ان روایات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جاتا ہے تو حقیقت یہ سامنے آتی ہے کہ ان مقامات پر امام ابو حنیفہؒ کی کوئی غلطی نہیں تھی، بلکہ وہم اور خطا خود ناقدین کی طرف سے ہوئی تھی؛ یوں امام ابو حنیفہؒ پر کثرتِ غلطی یا قلتِ روایت کو بطورِ جرح پیش کرنا نہ اصولی طور پر درست ہے اور نہ ہی علمی انصاف کے تقاضوں کے مطابق۔ قارئین دیکھیں  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


اعتراض نمبر 29 : امام ابن عدی الجرجانیؒ (م 365ھ) اپنی کتاب الكامل میں نقل کرتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے حدیث «مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ فَقِرَاءَتُهُ لَهُ قِرَاءَةٌ» کو مسند طور پر بیان کیا اور اس میں جابر بن عبداللہ کا واسطہ خود شامل کیا، جبکہ محدثین کے نزدیک یہ اضافہ ضعیف اور غیر ثابت ہے، کیونکہ اصل روایت مرسل ہی ہے۔


اعتراض نمبر 30 : امام ابن عدی الجرجانیؒ (م 365ھ) اپنی کتاب الكامل میں نقل کرتے ہیں حدیث "مفتاح الصلاة الوضوء “ میں موجود الفاظ "وفي كل ركعتين تسلیم" کو ابو سفیان السعدی سے نقل کرنے میں امام ابو حنیفہ (م۱۵۰ھ) منفرد ہیں


اعتراض نمبر 31 : امام ابن عدی الجرجانیؒ (م 365ھ) اپنی کتاب الكامل میں نقل کرتے ہیں امام ابو حنیفہؒ نے روایت (أَكَلَ ذَبِيحَةَ امْرَأَةٍ) کو نبی ﷺ تک متصل سند کے ساتھ بیان کیا ہے جبکہ دوسرے رواۃ جیسے منصور، مغیرہ اور حماد نے اسی روایت کو موقوف (یعنی صرف حضرت ابراہیم النخعیؒ کا قول) کے طور پر روایت کیا ہے۔


اعتراض نمبر 32 : امام ابن عدی الجرجانیؒ (م 365ھ) اپنی کتاب الكامل میں نقل کرتے ہیں حدیث "إِذَا ارْتَفَعَ النَّجْمُ ارْتَفَعَتِ الْعَاهَةُ عَنْ أَهْلِ كُلِّ بَلَدٍ" کی روایت میں امام ابو حنیفہؒ عطاءؒ سے منفرد راوی ہیں۔ اگرچہ عسل نے بھی یہ روایت مرفوع و موقوف دونوں انداز میں بیان کی ہے، تاہم وہ لکھتے ہیں کہ “عسل اور امام ابو حنیفہؒ دونوں ضعیف ہیں، لیکن عسل روایت کے ضبط میں امام ابو حنیفہؒ سے بہتر ہے۔”


اعتراض نمبر 33 : امام ابن عدی الجرجانیؒ (م 365ھ) اپنی کتاب الكامل میں نقل کرتے ہیں حدیث "الدَّالَّ عَلَى الْخَيْرِ كَفَاعِلِهِ" کی روایت میں امام ابو حنیفہؒ علقمہ بن مرثد سے منفرد ہیں


اعتراض نمبر 34 : امام ابن عدی الجرجانیؒ (م 365ھ) اپنی کتاب الكامل میں نقل کرتے ہیں حدیث " إِنَّ أَحْسَنَ مَا غَيَّرْتُمْ بِهِ الشَّعْرَ الْحِنَّاءُ وَالْكَتَمُ" کی روایت میں امام ابو حنیفہؒ نے ابو حجیہ اور ابو الاسود کے درمیان "ابن بریدہ" کا اضافہ کیا ہے


اعتراض نمبر 35 : امام ابن عدی الجرجانیؒ (م 365ھ) اپنی کتاب الكامل میں نقل کرتے ہیں "حديث الضحك" کی روایت میں ابو حنیفہ نے سند اور متن میں خطا کی ہے، کیونکہ انہوں نے سند میں معبد کا اضافہ کیا جبکہ اصل میں یہ حسن سے مرسلاً ہے اور متن میں قہقہہ (بلند آواز سے ہنسنا) کا اضافہ کیا .


اعتراض نمبر 62 : حافظ ابو علیؒ (م۳۴۹؁ھ) کا اعتراض کہ حدیث "نَهَى عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ" میں امام ابو حنیفہ سے غلطی ہوئی ہے


اعتراض نمبر 63 : امام ابو حنیفہؒ نے حدیث «نهى عن متعة النساء» کو ایک مجہول راوی محمد بن عبید اللہ کے واسطے سے روایت کیا ہے، حالانکہ جمہور محدثین اسے امام زہریؒ سے ربیع بن سبرہ عن أبیہ کے طریق سے نقل کرتے ہیں۔


اعتراض نمبر 64 : امام ابو الحسن الدارقطنیؒ (م385ھ) کی امام ابو حنیفہؒ سے متعلق آرا میں مثبت تبدیلی — تحقیقی و اسنادی مطالعہ


اعتراض نمبر 68 : محدث حسین بن ابراہیم الجوزقانی کی امامِ اعظم ابو حنیفہؒ پر جرح کا تحقیقی جائزہ


 اس سے یہ حقیقت مزید مستحکم ہو جاتی ہے کہ امام ابو حنیفہؒ پر غلطی کا الزام عائد کرنے میں عجلت اور عدمِ تحقیق سے کام لیا گیا ہے۔

امام ابو حنیفہؒ کے معاصر متشدّد ناقدین

 اس مقام پر یہ بات خاص طور پر قابلِ توجہ ہے کہ امام شعبہؒ اور امام یحییٰ بن معینؒ—جو جرح و تعدیل میں نہایت سخت اور متشدّد شمار ہوتے ہیں—دونوں نے امام ابو حنیفہؒ کی توثیق کی ہے۔ مزید برآں، خود غیر مقلدین کا مسلمہ اصول یہ ہے کہ اگر دو محدثین کے اقوال میں تعارض واقع ہو جائے تو جو امام زمانے کے اعتبار سے قریب العہد اور مقام کے اعتبار سے قریب البلد ہو، اس کی بات کو ترجیح دی جائے گی۔ اس اصول کی روشنی میں دیکھا جائے تو امام شعبہؒ اور امام یحییٰ بن معینؒ نہ صرف امام ابو حنیفہؒ کے زمانے کے زیادہ قریب ہیں بلکہ ان کے علمی ماحول اور معاصر فضاء سے بھی براہِ راست واقف ہیں۔ اس کے برخلاف امام نسائیؒ زمانی اعتبار سے بعد کے دور سے تعلق رکھتے ہیں۔ لہٰذا اصولی طور پر امام نسائیؒ کی طرف منسوب جرح—بالفرض ثبوت کے باوجود—امام شعبہؒ اور امام یحییٰ بن معینؒ جیسی جلیل القدر اور متشدّد توثیق کرنے والی ہستیوں کے مقابلے میں قابلِ ترجیح نہیں رہتی، بلکہ اصولِ جرح و تعدیل کی رو سے امام ابو حنیفہؒ کی توثیق ہی راجح اور معتبر قرار پاتی ہے۔


امام ابو حنیفہؒ   کی حدیث میں ثقاہت

امام ابو حنیفہؒ کی علمی عظمت اور حدیث میں ثقاہت پر جن اکابر محدثین و ائمہ نے تعریف کی ہے، ان میں امام شعبہؒ، امام یزید بن ہارونؒ، امام حمّاد بن زیدؒ، امام ابو نعیم فضل بن دکینؒ، زہیر بن معاویہؒ، امام سفیان بن عیینہؒ، امام وکیع بن جراحؒ، مکی بن ابراہیم ،  امام یحییٰ بن زکریاؒ، امام ترمذیؒ اور امام اعمشؒ کے اسماء نمایاں طور پر ذکر ہوتے ہیں۔ ان حضرات نے نہ صرف آپ کی فقہی بصیرت اور فقاہت کی گہرائی کی تعریف کی بلکہ آپ کی حدیث میں ثقاہت، صدق، ضبط اور قوتِ فہم کو بھی واضح طور پر سراہا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کو صرف ایک فقیہ نہیں بلکہ ایک معتبر محدث کے طور پر بھی امت کے جلیل القدر ائمہ نے تسلیم کیا ہے۔  قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


پیش لفظ: سلسلۂ تعریف و توثیقِ امام ابو حنیفہؒ : علمِ حدیث کے اُفق پر چمکتا ستارہ: تابعی، ثقہ، ثبت، حافظ الحدیث، امام اعظم ابو حنیفہؒ


تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...