نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اعتراض نمبر 1 : امام أبو نعيم الأصبهاني (٤٣٠هـ) اپنی کتاب حلية الأولياء میں نقل کرتے ہیں کہ امام عبد الرحمان بن مہدی رحمہ اللہ کے مطابق امام مالک تو امام ابو حنیفہ کے اُستاد سے بھی بڑے عالم تھے۔ اسی طرح ابنِ مہدی نے امام ابو حنیفہ کے خلاف ایک آیت بھی پڑھی اور یہ بھی کہا کہ ابو حنیفہ کے پاس علم نہیں تھا۔



کتاب  حلية الأولياء وطبقات الأصفياء  از  محدث أبو نعيم الأصبهاني (٤٣٠هـ) 

 میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر اعتراضات کا جائزہ : 


اعتراض نمبر 1 :

امام  أبو نعيم الأصبهاني (٤٣٠هـ)  اپنی کتاب حلية الأولياء میں نقل کرتے ہیں  کہ  امام عبد الرحمان بن مہدی رحمہ اللہ  کے مطابق امام مالک تو امام ابو حنیفہ کے اُستاد سے بھی بڑے عالم تھے۔ اسی طرح ابنِ مہدی نے امام ابو حنیفہ کے خلاف ایک آیت بھی پڑھی اور یہ بھی کہا کہ ابو حنیفہ کے پاس علم نہیں تھا۔


 حدثنا أحمد بن إسحاق ثنا عبد الرحمن بن محمد بن سلم ثنا عبد الرحمن ابن عمر قال: سمعت عبد الرحمن بن مهدي، وسأله رجل فقال: يا أبا سعيد بلغني أنك قلت: ما لك أعلم من أبي حنيفة.

 قال: ما قلت هذا ولكن أقول كان أعلم من أستاذ أبي حنيفة - يعني حماد بن أبي سليمان - قال: وسمعت عبد الرحمن ابن مهدي وذكر أبو حنيفة فقال: ﴿(ليحملوا أوزارهم كاملة يوم القيامة ومن أوزار الذين يضلونهم بغير علم ألا ساء ما يزرون)﴾، قال: وسمعت عبد الرحمن يقول: ما كان يدري أبو حنيفة ما العلم.


احمد بن اسحاق نے ہم سے روایت کیا، کہا: ہم سے عبدالرحمن بن محمد بن سَلْم نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے عبدالرحمن بن عمر نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: میں نے عبدالرحمن بن مہدی کو سنا، ان سے ایک آدمی نے پوچھا: “اے ابو سعید! مجھے خبر ملی ہے کہ آپ نے کہا ہے: مالک، ابو حنیفہ سے زیادہ علم رکھتے تھے۔” انہوں نے جواب دیا: “میں نے یہ نہیں کہا؛ بلکہ میں تو یہ کہتا ہوں کہ مالک، ابو حنیفہ کے استاذ سے زیادہ جاننے والے تھے— اور ان کا اشارہ حماد بن ابی سلیمان کی طرف تھا۔

” عبدالرحمن بن عمر کہتے ہیں: اور میں نے عبدالرحمن بن مہدی کو یہ بھی کہتے ہوئے سنا کہ وہ جب ابو حنیفہ کا ذکر کرتے تو آیتِ کریمہ پڑھتے تھے: ﴿ لِيَحْمِلُوا أَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمِنْ أَوْزَارِ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ أَلَا سَاءَ مَا يَزِرُونَ ﴾ (یعنی: تاکہ وہ قیامت کے دن اپنے گناہوں کا پورا بوجھ اٹھائیں، اور ان لوگوں کا بھی کچھ بوجھ جنہیں وہ بے علم گمراہ کرتے ہیں؛ دھیان رہے! بہت برا بوجھ ہے جو وہ اٹھاتے ہیں۔)

 اور میں نے عبدالرحمن کو یہ بھی کہتے ہوئے سنا: “ابو حنیفہ علم کو جانتے ہی نہیں تھے۔”

(حلية الأولياء وطبقات الأصفياء - ط السعادة  ، ج 9 ص 10 )


الجواب : امام عبد الرحمن بن مہدیؒ جیسے جلیل القدر محدث  کے  الفاظ صاف بتاتے ہیں کہ یہاں اعتدال اور انصاف کا دامن ہاتھ سے چھوٹ گیا ہے۔ یہ بات دراصل ابنِ مہدی کے تعصّب کا نتیجہ ہے، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ خود امام مالک رحمہ اللہ امام ابو حنیفہ سے استفادہ فرماتے تھے۔  امام ابو القاسم عبد اللہ بن احمد ابن ابی عوام ؒ (م ۳۳۵؁ھ)  فرماتے ہیں کہ :

حدثني يوسف بن أحمد المكي قال: حدثنا محمد بن حازم الفقيه قال: حدثنا محمد بن علي الصائغ بمكة قال: حدثنا إبراهيم بن محمد الشافعي: أنه قال: أخبرني عبد العزيز بن محمد الدراوردي قال: كان مالك بن أنس ينظر في كتب أبي حنيفة وينتفع بها۔

عبد العزیز بن محمد الدراوردی ؒ کہتے ہیں کہ امام مالک بن انس ؒ ،امام ابو حنیفہ ؒ کی کتابوں میں غور کرتے اور اس سے فائدہ اٹھاتے تھے ۔ (فضائل ابی حنیفہ واخبارہ ومناقبہ لابن ابی عوام : صفحہ ۲۳۵)

قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


تعریف و توثیق ابو حنیفہ سلسلہ نمبر 19 :امام ابوحنیفہؒ (م۱۵۰؁ھ) امام مالک بن انس ؒ (م۱۷۹؁ھ) کے نزدیک ثقہ ہیں ۔


اسی طرح  امام وکیع بن جراح، امام یحییٰ بن معین، امام یحییٰ بن سعید قطان—یہ سب حضرات امام ابو حنیفہ کی فقہ پر فتویٰ دیتے تھے۔ لہٰذا جب ابنِ مہدی یہ کہتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ کے پاس علم نہیں تھا تو یہ بات درست نہیں ہو سکتی، کیونکہ  ائمۂ حدیث و فقہ ابو حنیفہ کی فقہی آراء پر فتویٰ دیتے رہے ہیں۔  امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ نہ صرف علمِ فقہ کے بانیوں میں سے ہیں، بلکہ شریعتِ اسلامیہ میں فہم و بصیرت اور علمِ حدیث و اجتہاد کے ایسے درخشاں مینار ہیں، جن پر پورے اسلامی علمی ورثے کا دار و مدار قائم ہے۔ جیسا کہ امام شافعیؒ کا قول ہے: "العلم يدور على ثلاثة: مالك، والليث، وابن عيينة" یعنی: "علم ( حدیث ) کا مدار تین شخصیات پر ہے: امام مالکؒ، امام لیثؒ، اور ابن عیینہؒ"۔ امام ذہبیؒ (م 748ھ) اس قول پر اضافہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "قلت: بل وعلى سبعة معهم، وهم: الأوزاعي، والثوري، ومعمر، وأبو حنيفة، وشعبة، والحمادان" (سیر أعلام النبلاء: ج 8، ص 94) 

گویا امام ابو حنیفہؒ کو اُن سات ائمہ میں شمار کیا گیا ہے جن پر علم حدیث کا دارومدار ہے۔

اس کے علاوہ امام ابو حنیفہ کی فقہ اور علمی بصیرت ان کی زندگی ہی میں اس قدر پھیل چکی تھی کہ امام سفیان بن عیینہؒ جیسے اجلّ حفاظ کو کہنا پڑا: "دو چیزوں کے بارے میں میرا گمان تھا کہ وہ کوفہ کے پل سے آگے نہ بڑھیں گی، مگر وہ پوری آفاق ( دنیا ) میں پھیل گئیں: ایک حمزہ کی قراءت، اور دوسرے ابو حنیفہ کی فقہ " (تاریخ بغداد، ج 15، ص 475، بشار عواد معروف نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے ) قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


تعریف و توثیق ابو حنیفہ سلسلہ نمبر 22 : امام یحیی بن سعید القطان کاامام ابوحنیفہ سے اخذ واستفادہ


تعریف و توثیق ابو حنیفہ سلسلہ نمبر 2 :امام اعظم ابو حنیفہ ؒ (م۱۵۰؁ھ) امام ابن معین ؒ (م۲۳۳؁ھ) کی نظر میں


کتاب "امام وکیع بن جراح رحمہ اللہ کی حنفیت"


بلکہ سب سے بڑی حقیقت تو یہ ہے کہ خود ابنِ مہدی کے استاد، امام سفیان ثوری 
بھی امام ابو حنیفہ کی رائے  کی موافقت پر فتویٰ دیتے تھے۔ ( الإنتقاء في فضائل الثلاثة الأئمة الفقهاء - ابن عبد البر - الصفحة ١٤٦) قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود

اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ  ابن مہدیؒ سے منقول  جروحات انصاف پر مبنی نہیں بلکہ متعصبانہ ہیں۔ امام عبد الرحمن بن مہدیؒ، چونکہ سفیان ثوریؒ کے قریبی شاگردوں میں سے تھے، اس لیے ان کے مزاج میں بھی وہی رجحان نظر آتا ہے جو ان کے استاد کا تھا۔ امام ثوریؒ کا یہ کہنا کہ "مجھے ابو حنیفہ کی موافقت حق بات میں بھی پسند نہیں"(«العلل» رواية المروزي وغيره ص١٧٢) ایک واضح تعصب کو ظاہر کرتا ہے، اور یہی رنگ ان کے شاگرد عبد الرحمن بن مہدیؒ کے کلام میں بھی جھلکتا ہے(حلية الأولياء وطبقات الأصفياء - ط السعادة  ، ج 9 ص 10)۔  اصولِ جرح و تعدیل کے مطابق، متعصب ناقد کی جرح مردود ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ متاخرین ائمہ جرح و تعدیل جیسے امام مزیؒ، امام ذہبیؒ اور ابن حجرؒ نے ان سخت جروحات کو کوئی وقعت نہیں دی۔ مزید تفصیل کیلئے دیکھیں  "النعمان سوشل میڈیا سروسز " کی ویب سائٹ پر موجود 

تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...