نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

امامِ اعظم ابو حنیفہؒ کے حفظِ حدیث پر اعتراض کا علمی و اصولی جائزہ

 

امامِ اعظم ابو حنیفہؒ کے حفظِ حدیث پر اعتراض کا علمی و اصولی جائزہ


امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ وہ جلیل القدر ہستی ہیں جن کی علمی عظمت، فقہی بصیرت اور دینی خدمات پر امتِ مسلمہ کا اجماع ہے۔ آپ کا مقام و مرتبہ محض فقہ تک محدود نہیں، بلکہ حدیث، تفسیر اور اصولِ دین میں بھی آپ کی شان مسلم ہے۔ تاہم ہر دور میں بعض افراد کی طرف سے آپ کی ذاتِ گرامی پر اعتراضات اٹھائے گئے، جن میں ایک اعتراض حفظِ حدیث سے متعلق بھی ہے۔ زیرِ نظر سطور میں اسی اعتراض کا علمی، اصولی اور منصفانہ جائزہ پیش کیا جا رہا ہے، تاکہ حقیقت واضح ہو اور امامِ اعظمؒ کے بارے میں پھیلائی گئی غلط فہمیاں دور ہوں۔

حافظ ابن عبد البر مالکی رحمہ اللہ (م 463ھ) اپنی معروف کتاب التمهيد میں ایک مقام پر فرماتے ہیں: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ أَبُو حَنِيفَةَ عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عائشة عن عبد الله بن شداد ابن الْهَادِي عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ ﵇ وَلَمْ يُسْنِدْهُ غَيْرُ أَبِي حنيفة وهو سيء الْحِفْظِ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ  (التمهيد - ابن عبد البر - ط المغربية ١١/‏٤٨ )

اسی نوعیت کا اعتراض بعض دیگر حضرات نے بھی اسی انداز سے نقل کیا ہے وقال عبد الحق الإشبيلي في الأحكام الوسطى (١/ ٣٨٠): «أسنده الحسن بن عمارة، وهو متروك، وأبو حنيفة، وهو ضعيف، كلاهما عن موسى بن أبي عائشة، عن عبد الله بن شداد عن جابر». (تفسير القرطبي = الجامع لأحكام القرآن ١/‏١٢٢ )۔ 


دفاعِ امامِ اعظم اور جرحِ مبہم کا ابطال

بظاہر اس عبارت سے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کو اہلِ حدیث کے نزدیک “سیئ الحفظ” قرار دیا گیا ہے۔ لیکن یہاں اصل اور بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اس جرح میں جارح کون ہے؟ اس کا کوئی تعین موجود نہیں محض ایک عمومی اور مبہم نسبت ہے، اور  یہ بات خود غیر مقلدین کے مسلمہ اصولوں سے بھی ثابت ہے۔ چنانچہ شیخ زبیر علی زئی غیرمقلد لکھتے ہیں: ’’حافظ ابن عبد البر نے بعض مجہول لوگوں سے ‘ضعفوہ’ کا عندیہ دیا ہے۔ یہ ضعیف قرار دینے والے لوگ کون ہیں؟ ہمیں معلوم نہیں۔‘‘ (توضیح الاحکام، فتاویٰ علمیہ: 1/597)

اسی طرح غیر مقلد مصنف ارشاد الحق اثری لکھتے ہیں: ’’امام دارقطنیؒ نے اگر ‘لینوہ’ کہا ہے تو اس کو لین کہنے والے مجہول ہیں، لہٰذا اس کا کوئی اعتبار نہیں۔‘‘ (توضیح الکلام 1/534)

اسی کتاب میں ایک اور مقام پر صاف الفاظ میں لکھتے ہیں: ’’اگر جارح مجہول ہو تو اہلِ علم نے ایسی جرح کو قبول نہیں کیا۔‘‘ (توضیح الکلام 1/534)

بلکہ مزید وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’’یہ کلام موجبِ جرح نہیں، کیونکہ یہ مجہول آدمی سے منقول ہے۔‘‘ (توضیح الکلام 1/534)

اسی اصول کو زبیر علی زئی غیر مقلد نے ایک اور مقام پر یوں بیان کیا ہے: ’’ابن ابی حاتم کا قول ‘تکلموا فیہ’ کئی لحاظ سے مردود ہے… اس کا جارح نامعلوم ہے۔‘‘ (نور العینین، ص 88)

اور مولانا عبد الرحمن مبارک پوری غیر مقلد صاف الفاظ میں لکھتے ہیں: ’’جارحِ مجہول کی جرح غیر معتبر اور نامقبول ہے۔‘‘ (تحقیق الکلام، صفحہ 1/63)

یہ تمام تصریحات اس بات کا قطعی ثبوت ہیں کہ اگر جرح کرنے والا مجہول ہو تو اس کی جرح کو کسی حال میں قبول نہیں کیا جاتا۔ چنانچہ جب یہی اصول امام ابو حنیفہؒ کے معاملے میں لاگو کیا جائے تو “سیئ الحفظ” کا یہ الزام ازخود ساقط ہو جاتا ہے۔جب مخالفین کے اپنے گھر کی گواہی یہ ہے کہ مجہول جارح کی بات پائے اعتبار سے ساقط ہے، تو امام اعظم جیسی جلیل القدر شخصیت پر ایسی مبہم جرح کی حیثیت نقش بر آب سے زیادہ کچھ نہیں۔


حافظ ابن عبد البر مالکی رحمہ اللہ کا حتمی موقف :  جمہور محدثین کی توثیق


مزید یہ کہ یہی حافظ ابن عبد البر مالکی رحمہ اللہ، جن کی عبارت سے اعتراض کیا جاتا ہے، وہی اپنی دوسری تصریحات میں امام ابو حنیفہؒ کو جمہور محدثین کے نزدیک ثقہ قرار دیتے ہیں۔ 
حافظ ابن عبد البر مالکی رحمہ اللہ نے اپنی  شہرہ آفاق تصنیف "جامع بیان العلم وفضلہ" میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا وہ دفاع کیا ہے کہ مخالفین کے سارے قصرِ اعتراض مسمار ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں:
«الَّذِينَ رَوَوْا عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ وَوَثَّقُوهُ وَأَثْنَوْا عَلَيْهِ أَكْثَرُ مِنَ الَّذِينَ تَكَلَّمُوا فِيهِ، وَالَّذِينَ تَكَلَّمُوا فِيهِ مِنْ أَهْلِ الْحَدِيثِ…» (جامع بیان العلم وفضلہ، رقم: 2114)

یعنی:
جن محدثین نے امام ابو حنیفہؒ سے روایت کی ہے اور آپ کی توثیق و تعریف کی ہے، وہ ان لوگوں سے کہیں زیادہ ہیں جنہوں نے آپ کے بارے میں (بلا وجہ) کلام کیا ہے۔

اسی طرح وہ مزید فرماتے ہیں کہ امام ابو حنیفہؒ پر اعتراض کرنے والوں میں سے بعض حاسد تھے، جو آپ پر افتراء باندھتے اور ایسی باتیں منسوب کرتے تھے جن کا آپ سے کوئی تعلق نہ تھا، جبکہ اہلِ علم کی ایک بڑی جماعت نے آپ کی فضیلت کو تسلیم کیا اور آپ کی تعریف کی ہے۔ (ملخصاً: جامع بیان العلم وفضلہ، رقم: 2105)

بلکہ حافظ ابن عبد البرؒ نے نہایت صراحت کے ساتھ جامع بیان العلم وفضلہ میں امام یحییٰ بن معینؒ، امام شعبہؒ اور دیگر ائمۂ فن سے امام ابو حنیفہؒ کی توثیق و تعدیل نقل کی ہے، اور آپ پر جرح کرنے والوں کو مفرط اور متجاوز الحد قرار دیا ہے۔ (دیکھیے: جامع بیان العلم وفضلہ، رقم: 2104 وغیرہ)

ان تمام تصریحات سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ کے نزدیک خود امام ابو حنیفہؒ جمہور محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں، اور آپ کے خلاف کی جانے والی جرح نہ اصولاً معتبر ہے اور نہ حقیقتاً قابلِ التفات۔

لہٰذا امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے حفظِ حدیث پر کیا جانے والا یہ اعتراض درحقیقت علمی نہیں، بلکہ یا تو اصولِ حدیث سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے، یا پھر وہی پرانا تعصب جو تاریخ کے ہر دور میں امامِ اعظمؒ کے مقابل کھڑا رہا، مگر دلیل و انصاف کی کسوٹی پر ہمیشہ ناکام ہوا۔ امام ابو حنیفہؒ کا مقام، ان کی ثقاہت اور ان کی علمی عظمت نہ ایسی مبہم جرح سے کم ہو سکتی ہے اور نہ اہلِ علم کے نزدیک کبھی مشکوک رہی ہے۔

حاصلِ بحث:

حافظ ابن عبد البر کا "التمہید" میں "سیء الحفظ" والا قول درحقیقت ان کا اپنا فیصلہ نہیں، بلکہ بعض مجہول ناقدین کی حکایت ہے، جسے خود انہوں نے "جامع بیان العلم" میں رد کر دیا ہے۔ جب ناقدین مجہول ٹھہرے اور جمہور محدثین کی توثیق ثابت ہو گئی، تو امام ابوحنیفہ رحمہ 

اللہ کی ثقاہت پر اٹھنے والا ہر اعتراض اپنی موت آپ مر گیا۔


کڑی شرائطِ ضبط اور قوتِ حفظ کا باہمی تلازم: امامِ اعظمؒ کے  اسلوبِ روایت پر ائمہِ فن کی غیر معترضانہ خاموشی

امام ابو حنیفہؒ کا حدیث کے باب میں احتیاط، ضبط اور روایت کے لیے انتہائی سخت معیار اختیار کرنا ایسا امر نہیں جسے سرسری انداز میں نظر انداز کر دیا جائے، بلکہ یہی ان کے منہجِ حدیث کا بنیادی امتیاز ہے۔یہ نکتہ آفرینی علمِ اصولِ حدیث اور تعاملِ محدثین سے سطحی واقفیت کا نتیجہ ہی کہی جا سکتی ہے۔ امام ابوحنیفہؒ روایتِ حدیث کے باب میں اس درجہ محتاط، متصلب اور کڑی شرائط کے حامل تھے کہ ان کا قائم کردہ معیارِ ضبط ان کے معاصرینِ عظام کے مقابلے میں کہیں زیادہ بلند اور دشوار گزار تھا۔ وہ عصرِ تدوینِ حدیث کا وہ دور تھا جہاں شاذ و نادر ہی کوئی اس کڑی شرط پر پورا اتر سکتا تھا۔

  قال الطحاوي: حدثنا سليمان بن شعيب، حدثنا أبي، قال: أَمْلَى عَلَيْنَا أَبُو يُوسُفَ، قال: قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ: "لاَ يَنْبَغِي لِلرَّجُلِ أَنْ يُحَدِّثَ مِنَ الحَدِيثِ إِلاَّ بِمَا حَفِظَهُ مِنْ يَوْمِ سَمِعَهُ إِلَى يَوْمِ يُحَدِّثُ بِهِ".

امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا: "کسی شخص کے لیے مناسب نہیں کہ وہ حدیث بیان کرے مگر اسی حدیث کو جسے اس نے جس دن سنا ہو، اسی دن سے لے کر روایت کرنے کے وقت تک مسلسل یاد رکھا ہو۔" (الجواهر المضية في طبقات الحنفية 1/61، طبقات القاري 1/445 – سند لا بأس به)

غور فرمائیے! جو امامِ وقت تحدیثِ حدیث کے لیے "ضبطِ صدر" کی ایسی کڑی اور بے لچک شرط عائد کرتا ہو کہ سماعِ حدیث سے لے کر اداءِ حدیث تک اس میں ایک لمحے کا انقطاع یا غفلت بھی اسے گوارا نہ ہو، اس کے بارے میں یہ کہنا کہ "ان کا حفظِ حدیث مسلم نہیں"، علمِ اصولِ حدیث اور تعاملِ محدثین سے سطحی مناسبت کا نتیجہ ہی کہا جا سکتا ہے۔ اسی مضمون کو امیر المؤمنین فی الحدیث امام یحییٰ بن معینؒ نے بھی صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے، جیسا کہ خطیب بغدادیؒ نے نقل کیا:

  أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْكَاتِبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ سَهْلٍ الْمُخَرِّمِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ حِبَّانَ، قَالَ وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ قَالَ أَبُو زَكَرِيَّا يَعْنِي يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ وَسُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ، يَجِدُ الْحَدِيثَ بِخَطِّهِ لَا بِحِفْظِهِ فَقَالَ أَبُو زَكَرِيَّا «كَانَ أَبُو حَنِيفَةَ يَقُولُ لَا تُحَدِّثُ إِلَّا بِمَا تَعْرِفُ وَتَحْفَظُ». (الكفاية في علم الرواية للخطيب البغدادي 1/231) 

یعنی جب امام یحییٰ بن معینؒ سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو حدیث اپنی تحریر میں تو پاتا ہے مگر اسے حفظ نہیں، تو انہوں نے امام ابو حنیفہؒ کا یہ قول نقل کیا کہ: "صرف وہی حدیث بیان کرو جسے تم پہچانتے بھی ہو اور یاد بھی رکھتے ہو۔" ( سند میں محمد بن سہل پر کلام بھی ہے اور ان کی توثیق بھی ہے، جبکہ حسین بن حبان کے متعلق تفصیل کے لیے ہمارا رسالہ امام وکیع بن جراح کی حنفیت ملاحظہ ہو۔ لہٰذا اگر اس سند میں کچھ ضعف بھی فرض کیا جائے تو متعدد طرق سے منقول ہونے کی وجہ سے وہ مؤثر نہیں رہتا۔)

اسی طرح ایک دوسری روایت میں ہے: "كان أبو حنيفة ثقة، لا يحدث بالحديث إلا بما يحفظه، ولا يحدث بما لا يحفظ." (تاریخ بغداد، ت بشار، 15/573) 

حافظ ابو عبد اللہ الحاکم النیسابوریؒ امام ابو حنیفہؒ کا یہ اصول نقل کرتے ہیں: قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ: لَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يَرْوِيَ الْحَدِيثَ إِلَّا إِذَا سَمِعَهُ مِنْ فَمِ الْمُحَدِّثِ، فَيَحْفَظُهُ، ثُمَّ يُحَدِّثُ بِهِ. (المدخل إلى كتاب الإكليل ١/٤٨) یعنی: "کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ حدیث روایت کرے جب تک اسے خود محدث کے منہ سے نہ سنے، پھر اسے محفوظ نہ کرے، اس کے بعد ہی اسے روایت کرے۔"

یہ نصوص اس حقیقت پر شاہد ہیں کہ امام ابو حنیفہؒ حدیث کی روایت میں انتہائی درجے کی احتیاط کے قائل تھے۔ ان کے نزدیک نہ صرف سماع ضروری تھا بلکہ حفظ، ضبط اور روایت تک اس حفظ کا برقرار رہنا بھی شرط تھا۔ جب امامِ اعظمؒ مرویاتِ حدیث کو قبول کرنے اور آگے پہنچانے میں اتنے سخت اصول برتتے تھے، تو یقیناً ان کی مرویات کی تعداد ان محدثین سے کم ہونی تھی جو اِرسال، تدلیس، یا محض کتابی نسخوں (ضبطِ کتاب) پر تکیہ کر کے روایات کی بھرمار کر دیتے تھے۔ ناقدین نے امامِ اعظمؒ کی اس حد درجہ احتیاط اور مرویات کے کم دائرے کو  نادانی میں "قلتِ حفظ" یا "عدمِ ضبط" پر محمول کر لیا! 

امرِ مبرہن یہ ہے کہ ضبط و روایت کے اس قدر کٹھن اور بے لچک معیار کا صدور کسی ایسے شخص سے عقلاً و نقلاً محال ہے جو خود سوءِ حفظ یا تغیر کا شکار ہو۔ فنِ جرح و تعدیل کا ادنیٰ طالب علم بھی یہ جانتا ہے کہ ضعیف اور کمزور حافظے کا حامل راوی تو خود مرویات کے تحفظ سے عاجز ہونے کے باعث سہولت پسندی کا جویا ہوتا ہے؛ یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ تحدیثِ حدیث کے لیے سماع سے لے کر ادا تک "ضبطِ صدر" کی ایسی کڑی اور فولادی شرط عائد کرے جس کی زد میں خود اس کی اپنی ذات آتی ہو؟ علمِ نقد کا اصولی تقاضا تو یہ تھا کہ اگر امامِ ہمامؒ کے اپنے حافظے میں کوئی فتور یا تغیر ہوتا، تو ان کے ہم عصر معاصرین بالخصوص امام یحییٰ بن معینؒ جیسے جری نقاد جن کی خارا شگاف نظروں سے رائی برابر عیب بھی نہ چھپ سکتا تھا  فوراً گرفت فرماتے اور برملا اعتراض کرتے کہ "نعمان! تمہارا اپنا دامن تو تغیرِ حفظ کے داغوں سے آلودہ ہے اور دوسروں کے لیے تم نے کسوٹی اتنی سخت وضع کر رکھی ہے!" لیکن تاریخِ رجال گواہ ہے کہ امام ابنِ معینؒ  نے امامِ اعظمؒ کے اس منہجِ ضبط پر نکیر کا ایک لفظ بھی نہیں فرمایا۔ ائمہِ نقد کا یہ سکوتِ نیم رضا اس بات کی بین اور روشن دلیل ہے کہ ان کے نزدیک امام ابوحنیفہؒ کا اپنا حافظہ صیانت و اتقان کے اعلیٰ ترین مقام پر فائز تھا اور ان کا معیارِ نقد ان کے اپنے کوہِ پیکر حفظ کا آئینہ دار تھا۔ 

اس سارے قضیے کی اصل حقیقت یہ معلوم ہوتی ہے کہ بعض ناقدین نے امامِ اعظمؒ کے ہاں پائے جانے والے "روایت بالمعنی" کے اسلوب کو خطائے فہم کی بنا پر حافظے کا تغیر اور وہم تصور کر لیا؛ حالانکہ ائمہِ سلف کا متفقہ تعامل رہا ہے کہ وہ روایت بالمعنی کو جائز اور مروج سمجھتے تھے، حتیٰ کہ خود شیخ المعلمی الیمانی صاحب نے بھی امام سفیان بن عیینہؒ کے احوال میں تسلیم کیا ہے کہ وہ کثرت سے روایت بالمعنی کیا کرتے تھے۔ اس باب میں امیر المؤمنین فی الحدیث امام سفیان ثوریؒ کا یہ صریح اور بیباک قول تو علمِ حدیث کے ریکارڈ پر موجود ہے:

"حدثنا زيد بن الحباب قال: قال سفيان الثوري: إن قلت إني أحدثكم كما سمعت فقد كذبت." (العلل رواية عبد اللَّه، رقم: 1309)

امامِ موصوف کا صاف اور سیدھا مطلب یہ تھا کہ لفظ بہ لفظ روایت کا دعویٰ کرنا حقیقتِ حال کے خلاف ہے، اس لیے وہ بعض اوقات حدیث کو مفہوم اور روح کے اعتبار سے بیان فرماتے تھے۔ پس جب روایت بالمعنی ائمہِ کوفہ کا مسلمہ شعار تھا، تو اسے امام ابوحنیفہؒ کے حق میں عیب یا سوءِ حفظ بنا کر پیش کرنا انصاف کی ترازو کو توڑنے کے مترادف ہے۔ 

 

 مزید تفصیل کیلئے قارئین دیکھیں


پیش لفظ: سلسلۂ تعریف و توثیقِ امام ابو حنیفہؒ : علمِ حدیث کے اُفق پر چمکتا ستارہ: تابعی، ثقہ، ثبت، حافظ الحدیث، امام اعظم ابو حنیفہؒ


اعتراض نمبر 3 :بعض محدثین نے قیاس اور رائے کی وجہ سے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر اعتراض وغیرہ کئے۔


اعتراض نمبر 29 : امام ابن عدی الجرجانیؒ (م 365ھ) اپنی کتاب الكامل میں نقل کرتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے حدیث «مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ فَقِرَاءَتُهُ لَهُ قِرَاءَةٌ» کو مسند طور پر بیان کیا اور اس میں جابر بن عبداللہ کا واسطہ خود شامل کیا، جبکہ محدثین کے نزدیک یہ اضافہ ضعیف اور غیر ثابت ہے، کیونکہ اصل روایت مرسل ہی ہے۔


اعتراض نمبر 37 : امام اعظم ابو حنیفہؒ پر محدثین کے تعصب کی چند شرمناک مثالیں


اعتراض نمبر60 : امام ابنِ عدیؒ کی امام ابو حنیفہؒ سے متعلق آرا میں مثبت تبدیلی — تحقیقی و اسنادی مطالعہ


اعتراض نمبر 61 : محدث أبو زرعة الرازي (عبيد الله بن عبد الكريم ) رحمه الله م 264ھ کی فقیہ ملت امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رحمہ اللہ م 150ھ پر جروحات کا تحقیقی جائزہ


اعتراض نمبر 62 : حافظ ابو علیؒ (م۳۴۹؁ھ) کا اعتراض کہ حدیث "نَهَى عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ" میں امام ابو حنیفہ سے غلطی ہوئی ہے


اعتراض نمبر 63 : امام ابو حنیفہؒ نے حدیث «نهى عن متعة النساء» کو ایک مجہول راوی محمد بن عبید اللہ کے واسطے سے روایت کیا ہے، حالانکہ جمہور محدثین اسے امام زہریؒ سے ربیع بن سبرہ عن أبیہ کے طریق سے نقل کرتے ہیں۔


اعتراض نمبر 64 : امام ابو الحسن الدارقطنیؒ (م385ھ) کی امام ابو حنیفہؒ سے متعلق آرا میں مثبت تبدیلی — تحقیقی و اسنادی مطالعہ


   "تحويل التنكيل إلى صاحبه المعلمي، لما وقع في الأوهام والأباطيل" از: محمد رئیس و مساعد زیب


تبصرے