امامِ اعظم ابو حنیفہؒ کے حفظِ حدیث پر اعتراض کا علمی و اصولی جائزہ
امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ وہ جلیل القدر ہستی ہیں جن کی علمی عظمت، فقہی بصیرت اور دینی خدمات پر امتِ مسلمہ کا اجماع ہے۔ آپ کا مقام و مرتبہ محض فقہ تک محدود نہیں، بلکہ حدیث، تفسیر اور اصولِ دین میں بھی آپ کی شان مسلم ہے۔ تاہم ہر دور میں بعض افراد کی طرف سے آپ کی ذاتِ گرامی پر اعتراضات اٹھائے گئے، جن میں ایک اعتراض حفظِ حدیث سے متعلق بھی ہے۔ زیرِ نظر سطور میں اسی اعتراض کا علمی، اصولی اور منصفانہ جائزہ پیش کیا جا رہا ہے، تاکہ حقیقت واضح ہو اور امامِ اعظمؒ کے بارے میں پھیلائی گئی غلط فہمیاں دور ہوں۔
اسی نوعیت کا اعتراض بعض دیگر حضرات نے بھی اسی انداز سے نقل کیا ہے وقال عبد الحق الإشبيلي في الأحكام الوسطى (١/ ٣٨٠): «أسنده الحسن بن عمارة، وهو متروك، وأبو حنيفة، وهو ضعيف، كلاهما عن موسى بن أبي عائشة، عن عبد الله بن شداد عن جابر». (تفسير القرطبي = الجامع لأحكام القرآن ١/١٢٢ )۔
دفاعِ امامِ اعظم اور جرحِ مبہم کا ابطال
بظاہر اس عبارت سے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کو اہلِ حدیث کے نزدیک “سیئ الحفظ” قرار دیا گیا ہے۔ لیکن یہاں اصل اور بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اس جرح میں جارح کون ہے؟ اس کا کوئی تعین موجود نہیں محض ایک عمومی اور مبہم نسبت ہے، اور یہ بات خود غیر مقلدین کے مسلمہ اصولوں سے بھی ثابت ہے۔ چنانچہ شیخ زبیر علی زئی غیرمقلد لکھتے ہیں: ’’حافظ ابن عبد البر نے بعض مجہول لوگوں سے ‘ضعفوہ’ کا عندیہ دیا ہے۔ یہ ضعیف قرار دینے والے لوگ کون ہیں؟ ہمیں معلوم نہیں۔‘‘ (توضیح الاحکام، فتاویٰ علمیہ: 1/597)
اسی طرح غیر مقلد مصنف ارشاد الحق اثری لکھتے ہیں: ’’امام دارقطنیؒ نے اگر ‘لینوہ’ کہا ہے تو اس کو لین کہنے والے مجہول ہیں، لہٰذا اس کا کوئی اعتبار نہیں۔‘‘ (توضیح الکلام 1/534)
اسی کتاب میں ایک اور مقام پر صاف الفاظ میں لکھتے ہیں: ’’اگر جارح مجہول ہو تو اہلِ علم نے ایسی جرح کو قبول نہیں کیا۔‘‘ (توضیح الکلام 1/534)
بلکہ مزید وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’’یہ کلام موجبِ جرح نہیں، کیونکہ یہ مجہول آدمی سے منقول ہے۔‘‘ (توضیح الکلام 1/534)
اسی اصول کو زبیر علی زئی غیر مقلد نے ایک اور مقام پر یوں بیان کیا ہے: ’’ابن ابی حاتم کا قول ‘تکلموا فیہ’ کئی لحاظ سے مردود ہے… اس کا جارح نامعلوم ہے۔‘‘ (نور العینین، ص 88)
اور مولانا عبد الرحمن مبارک پوری غیر مقلد صاف الفاظ میں لکھتے ہیں: ’’جارحِ مجہول کی جرح غیر معتبر اور نامقبول ہے۔‘‘ (تحقیق الکلام، صفحہ 1/63)
یہ تمام تصریحات اس بات کا قطعی ثبوت ہیں کہ اگر جرح کرنے والا مجہول ہو تو اس کی جرح کو کسی حال میں قبول نہیں کیا جاتا۔ چنانچہ جب یہی اصول امام ابو حنیفہؒ کے معاملے میں لاگو کیا جائے تو “سیئ الحفظ” کا یہ الزام ازخود ساقط ہو جاتا ہے۔جب مخالفین کے اپنے گھر کی گواہی یہ ہے کہ مجہول جارح کی بات پائے اعتبار سے ساقط ہے، تو امام اعظم جیسی جلیل القدر شخصیت پر ایسی مبہم جرح کی حیثیت نقش بر آب سے زیادہ کچھ نہیں۔
حافظ ابن عبد البر مالکی رحمہ اللہ کا حتمی موقف : جمہور محدثین کی توثیق
ان تمام تصریحات سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ کے نزدیک خود امام ابو حنیفہؒ جمہور محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں، اور آپ کے خلاف کی جانے والی جرح نہ اصولاً معتبر ہے اور نہ حقیقتاً قابلِ التفات۔
لہٰذا امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے حفظِ حدیث پر کیا جانے والا یہ اعتراض درحقیقت علمی نہیں، بلکہ یا تو اصولِ حدیث سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے، یا پھر وہی پرانا تعصب جو تاریخ کے ہر دور میں امامِ اعظمؒ کے مقابل کھڑا رہا، مگر دلیل و انصاف کی کسوٹی پر ہمیشہ ناکام ہوا۔ امام ابو حنیفہؒ کا مقام، ان کی ثقاہت اور ان کی علمی عظمت نہ ایسی مبہم جرح سے کم ہو سکتی ہے اور نہ اہلِ علم کے نزدیک کبھی مشکوک رہی ہے۔
حاصلِ بحث:
حافظ ابن عبد البر کا "التمہید" میں "سیء الحفظ" والا قول درحقیقت ان کا اپنا فیصلہ نہیں، بلکہ بعض مجہول ناقدین کی حکایت ہے، جسے خود انہوں نے "جامع بیان العلم" میں رد کر دیا ہے۔ جب ناقدین مجہول ٹھہرے اور جمہور محدثین کی توثیق ثابت ہو گئی، تو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی ثقاہت پر اٹھنے والا ہر اعتراض اپنی موت آپ مر گیا۔
مزید تفصیل کیلئے قارئین دیکھیں
اعتراض نمبر 3 :بعض محدثین نے قیاس اور رائے کی وجہ سے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر اعتراض وغیرہ کئے۔
اعتراض نمبر 37 : امام اعظم ابو حنیفہؒ پر محدثین کے تعصب کی چند شرمناک مثالیں
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں